مظفر آباد: مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف نے آزاد کشمیر کا وزیراعظم بننے کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر الیکشن میں کامیابی ملی تو وہ شہباز شریف سے کہیں گے کہ انہیں وزیراعظم آزاد کشمیر بنا دیا جائے۔
مظفر آباد میں ایک انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے نواز شریف نے کہا کہ میرا دل کرتا ہے کہ اگر الیکشن میں کامیابی ملتی ہے تو شہباز شریف سے کہوں کہ مجھے وزیراعظم آزاد کشمیر بنا دیں۔
انہوں نے آزاد کشمیر کو اپنا دوسرا گھر قرار دیتے ہوئے کہا کہ میرے لیے آزاد کشمیر بھی اتنا ہی عزیز ہے جتنا پنجاب ہے۔ انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر، گلگت بلتستان اور چاروں صوبوں میں ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے کبھی کوئی تفریق نہیں کی گئی۔
آزاد کشمیر الیکشن تین مرحلوں میں کرانے کا اعلان
نواز شریف کا کہنا تھا کہ اگر آزاد کشمیر میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت بنی تو یہاں کے تمام مسائل حل کریں گے اور مسائل کے خاتمے تک چین سے نہیں بیٹھیں گے۔ انہوں نے عوام سے کہا کہ اگر آپ مسلم لیگ (ن) کو ووٹ دیں گے تو میں ہر تین ماہ بعد آزاد کشمیر آؤں گا اور خود عوام کے مسائل سن کر ان کا حل یقینی بناؤں گا۔
انہوں نے کہا کہ پنجاب میں جو ترقیاتی کام ہو رہے ہیں ان میں شہباز شریف کا بھی بڑا کردار ہے۔ میں نے مریم نواز سے کہا ہے کہ پنجاب میں جس طرح ترقیاتی منصوبے مکمل کیے جا رہے ہیں، اسی طرز پر مظفر آباد اور آزاد کشمیر میں بھی کام ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن میں کامیابی کے بعد پنجاب جیسے ترقیاتی منصوبے آزاد کشمیر میں بھی لائے جائیں گے، یہاں موٹرویز سمیت بڑے منصوبے تعمیر کیے جائیں گے۔
نواز شریف نے کہا کہ جب وہ وزیراعظم تھے تو آزاد کشمیر کا بجٹ دوگنا کر دیا تھا۔ اگر آزاد کشمیر میں ہماری حکومت بنی تو ہم یہاں کا بجٹ دس گنا بڑھائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ آپ جانتے ہیں کہ نواز شریف جو وعدہ کرتا ہے، وہ پورا بھی کرتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پنجاب کے ترقیاتی منصوبوں کا آغاز شہباز شریف نے کیا تھا اور مریم نواز ان منصوبوں کو مکمل کر رہی ہیں۔ پنجاب حکومت کی جانب سے مظفر آباد کے عوام کے لیے دس گرین بسوں کا تحفہ دیا جا رہا ہے، جو چند روز میں یہاں پہنچ جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ یہ جدید، ایئرکنڈیشنڈ اور بجلی سے چلنے والی بسیں ہوں گی۔
نواز شریف نے یہ بھی اعلان کیا کہ پنجاب حکومت آزاد کشمیر کے لیے پندرہ موبائل اسپتال بھی فراہم کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ میرے بعد آنے والی حکومت نے ملک کے لیے کچھ نہیں کیا بلکہ پاکستان کو نقصان پہنچایا۔ ہم نے بہت قیمتی وقت ضائع کیا، حالانکہ یہ وقت عوام کی فلاح و بہبود اور ترقی کے لیے استعمال ہونا چاہیے تھا۔