چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ معرکۂ حق سے متعلق نورین نیازی کا بیان پارٹی پالیسی نہیں بلکہ ان کی ذاتی رائے ہے۔
راولپنڈی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ہر پاکستانی کو معرکۂ حق میں کامیابی پر فخر ہے، پاکستان کا دفاع مضبوط ہے اور کوئی بھی دشمن ملک کو شکست نہیں دے سکتا۔
این ڈی ایم اے کا 24 جولائی تک ملک بھر میں سیلاب، اربن فلڈنگ اور لینڈ سلائیڈنگ کا الرٹ جاری
انہوں نے کہا کہ ان کی معلومات کے مطابق نورین نیازی کا انٹرویو تقریباً تین ماہ پرانا ہے، اس لیے اسے پارٹی مؤقف نہ سمجھا جائے کیونکہ یہ ان کے ذاتی خیالات ہیں۔
چیئرمین پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ ان کی کوشش رہی ہے کہ حالات بہتر ہوں، اس وقت ضرورت اس بات کی ہے کہ پرانی باتوں کو نہ چھیڑا جائے اور معاملات کو مزید کشیدہ کرنے کے بجائے تحمل کا مظاہرہ کیا جائے۔
انہوں نے مولانا فضل الرحمان کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنے مؤقف کی وضاحت کر دی ہے، بعض اوقات جوشِ خطابت میں کچھ باتیں نکل جاتی ہیں، تاہم جو غلط ہے اسے غلط ہی کہا جائے گا۔
بیرسٹر گوہر نے مزید کہا کہ کچھ معاملات ایسے ہیں جن پر غیر ضروری لب کشائی سے گریز کرنا چاہیے تاکہ حالات بہتری کی جانب بڑھ سکیں اور ماحول مزید خراب نہ ہو۔
آزاد کشمیر انتخابات کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ فی الحال پارٹی کا بائیکاٹ کا فیصلہ برقرار ہے، تاہم اگر حالات میں بہتری آئی تو اس فیصلے پر نظرثانی کی جا سکتی ہے۔ ان کے مطابق پارٹی کے اندر بائیکاٹ کے فیصلے پر نظرثانی کی رائے موجود تھی، لیکن اس حوالے سے اتفاقِ رائے نہیں ہو سکا۔