سائنس دانوں نے کافی سے متعلق ایک نئی تحقیق میں انکشاف کیا ہے کہ یہ مشروب صرف جسم کو توانائی فراہم کرنے تک محدود نہیں بلکہ صحت مند بڑھاپے میں بھی اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
ٹیکساس اے اینڈ ایم یونیورسٹی کی تحقیق، جو سائنسی جریدے *نیوٹرینٹس* میں شائع ہوئی، کے مطابق کافی میں پائے جانے والے بعض قدرتی مرکبات جسم میں موجود **این آر 4 اے 1 (NR4A1)** نامی ریسیپٹر کو متحرک کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
فیفا ورلڈکپ 2026: گولڈن بال اور گولڈن گلوو کس کے نام رہا؟
محققین کا کہنا ہے کہ یہ ریسیپٹر جسم میں تناؤ کے ردِعمل، سوزش، میٹابولزم اور ٹشوز کی مرمت جیسے اہم حیاتیاتی عمل کو منظم کرنے میں کردار ادا کرتا ہے، جو صحت مند عمر رسیدگی سے گہرا تعلق رکھتے ہیں۔
تحقیق میں شامل سائنس دان رابرٹ ایس چیپکن کے مطابق کافی دنیا بھر میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والے مشروبات میں شامل ہے اور اس کے صحت پر مثبت اثرات پہلے بھی مختلف مطالعات میں سامنے آ چکے ہیں، جن کی نوعیت بحیرۂ روم کی غذا سے منسلک فوائد سے مشابہ ہے۔
ماہرین نے بتایا کہ ماضی کی متعدد تحقیقات کافی کے استعمال کو مختلف دائمی بیماریوں کے خطرات میں کمی سے جوڑ چکی ہیں، جبکہ نئی تحقیق ان فوائد کے ممکنہ حیاتیاتی طریقۂ کار کی وضاحت کرتی ہے۔
تاہم محققین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اس حوالے سے مزید تحقیق کی ضرورت ہے تاکہ یہ واضح ہو سکے کہ انسانوں میں کافی کے یہ اثرات کس حد تک مؤثر ہیں اور ان فوائد کے حصول کے لیے کتنی مقدار مناسب ہو سکتی ہے۔