اسلام آباد: کینسر، ذیابیطس، ہیموفیلیا، پارکنسنز، دل کے امراض اور شدید انفیکشنز کے علاج میں استعمال ہونے والی اہم نئی ادویات کی قیمتوں کی منظوری تاحال نہ ہونے کے باعث مریضوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔
ادویات کی عدم دستیابی کے سبب متعدد مریض غیر رجسٹرڈ، ذاتی طور پر درآمد کی گئی یا اسمگل شدہ ادویات استعمال کرنے پر مجبور ہیں، جس پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
آئی ایس پی آر کے زیراہتمام پاکستان بھر کے طلبہ کیلئے سمر کیمپ 2026 کا انعقاد
وفاقی وزارتِ صحت نے واضح کیا ہے کہ معاملہ موجودہ ادویات کی قیمتوں میں اضافے کا نہیں بلکہ نئی رجسٹرڈ ادویات کی قیمتوں کے تعین سے متعلق ہے۔ وزارت کے مطابق اب تک 35 نئی رجسٹرڈ ادویات کی قیمتوں کی منظوری دی جا چکی ہے، جبکہ مزید 40 ادویات کی قیمتوں کی منظوری کے لیے وفاقی حکومت سے رابطہ جاری ہے۔
ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) کے مطابق 40 نئی ادویات کی قیمتوں سے متعلق سفارشات وفاقی حکومت کو ارسال کی جا چکی ہیں اور حتمی منظوری کے بعد ہی ان ادویات کی قانونی فروخت ممکن ہو سکے گی۔
دوسری جانب فارما انڈسٹری اور کیمسٹس تنظیموں نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ نئی رجسٹرڈ ادویات کی قیمتوں کی منظوری کا عمل فوری مکمل کیا جائے تاکہ مریضوں کو ضروری ادویات بروقت دستیاب ہو سکیں۔