Gas Leakage Web ad 1

ایپل نے اینویڈیا کو پیچھے چھوڑ کر دنیا کی سب سے قیمتی کمپنی کا اعزاز حاصل کر لیا

0

ٹیکنالوجی کمپنی ایپل نے مارکیٹ ویلیو کے اعتبار سے اینویڈیا کو پیچھے چھوڑتے ہوئے دنیا کی سب سے قیمتی کمپنی کا مقام دوبارہ حاصل کر لیا ہے۔ ایپل کی مارکیٹ ویلیو تقریباً 4.88 ٹریلین ڈالر تک پہنچ گئی، جبکہ اینویڈیا کے حصص میں 3.5 فیصد کمی کے بعد اس کی مالیت تقریباً 4.86 ٹریلین ڈالر ریکارڈ کی گئی۔

Gas Leakage Web ad 2

سرمایہ کاروں کی جانب سے مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے متعلق بدلتے رجحانات کے باعث ٹیکنالوجی کمپنیوں کی درجہ بندی میں یہ تبدیلی سامنے آئی ہے۔ اینویڈیا تقریباً ایک سال تک دنیا کی سب سے قیمتی کمپنی رہی، تاہم ایپل نے طویل عرصے بعد دوبارہ پہلی پوزیشن حاصل کر لی ہے۔

ماہرین کے مطابق ایپل کو ماضی میں مصنوعی ذہانت کی دوڑ میں دیگر بڑی کمپنیوں کے مقابلے میں پیچھے سمجھا جاتا تھا، لیکن اب سرمایہ کاروں کا اعتماد کمپنی کے مضبوط ایکو سسٹم، سروسز اور ہارڈویئر اپ گریڈز کے ذریعے اے آئی سے آمدن بڑھانے کی صلاحیت پر بڑھ رہا ہے۔

ایپل نے حال ہی میں اپنے ورچوئل اسسٹنٹ "سری” کا جدید ورژن متعارف کرایا ہے، جس کا مقصد مصنوعی ذہانت کے شعبے میں حریف کمپنیوں کا مقابلہ کرنا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آئی فون صارفین سے حاصل ہونے والے ڈیٹا اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے ایپل مستقبل میں مزید بہتر اے آئی فیچرز متعارف کرا سکتا ہے، تاہم اسے صارفین کی پرائیویسی کے تحفظ کو بھی یقینی بنانا ہوگا۔

دوسری جانب اینویڈیا اب بھی مصنوعی ذہانت کی صنعت میں ایک اہم مقام رکھتی ہے، کیونکہ اس کے جدید گرافکس پروسیسرز جنریٹو اے آئی ٹیکنالوجی کے بنیادی اجزا میں شمار ہوتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق مارکیٹ کے رجحانات میں تبدیلی کے باعث اینویڈیا دوبارہ دنیا کی سب سے قیمتی کمپنی بن سکتی ہے۔

مصنوعی ذہانت سے متعلق سرمایہ کاری کا رجحان اب میموری چپ بنانے والی کمپنیوں تک بھی پھیل رہا ہے، جہاں مختلف سیمی کنڈکٹر کمپنیاں سرمایہ کاروں کی توجہ حاصل کر رہی ہیں۔ تاہم حالیہ عرصے میں اے آئی سرمایہ کاری کی رفتار میں کمی کے باعث سیمی کنڈکٹر شعبے میں اتار چڑھاؤ بھی دیکھا گیا ہے۔

sui northern 2
Leave A Reply

Your email address will not be published.