Gas Leakage Web ad 1

ٹک ٹاک کا پاکستان میں اے آئی آگاہی بڑھانے کا اعلان

0

ٹک ٹاک نے پاکستان میں صارفین کو مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے تیار کردہ مواد کو سمجھنے اور اس کی شناخت میں مدد دینے کے لیے نئے اقدامات کا اعلان کر دیا ہے۔ کمپنی کے مطابق آئندہ چند ہفتوں میں پاکستان میں ایپ کے اندر **اے آئی لٹریسی ہب** متعارف کرایا جائے گا۔

Gas Leakage Web ad 2

ٹک ٹاک کا کہنا ہے کہ جنریٹو اے آئی کے ذریعے مواد بنانے اور شیئر کرنے کے طریقوں میں تیزی سے تبدیلی آ رہی ہے، جس کے پیش نظر کمپنی شفافیت بڑھانے، تعلیمی وسائل فراہم کرنے، اسپیم کی بہتر شناخت اور صنعتی شراکت داریوں کو وسعت دینے پر کام کر رہی ہے۔

کمپنی نے **نیوز اینڈ میڈیا لٹریسی الائنس (NAMLE)** اور ڈیپ فیک محقق ہنری اجدر کے ساتھ شراکت داری کرتے ہوئے ایک عملی گائیڈ تیار کی ہے، جس میں صارفین کو اے آئی ٹیکنالوجی کو سمجھنے، اے آئی سے تیار کردہ مواد کی شناخت اور ذمہ دارانہ استعمال سے متعلق رہنمائی فراہم کی جائے گی۔

ٹک ٹاک کے مطابق اے آئی لٹریسی ہب کے ذریعے صارفین کو اے آئی سے متعلق موضوعات تلاش کرنے پر تعلیمی مواد فراہم کیا جائے گا، جس میں اے آئی مواد کی پہچان اور اے آئی ٹولز کو اعتماد کے ساتھ استعمال کرنے سے متعلق معلومات شامل ہوں گی۔

ٹک ٹاک کی گلوبل پبلک پالیسی ٹیم کے اے آئی لیڈ ٹام ورگھیز نے کہا کہ صارفین کو پلیٹ فارم پر اے آئی سے متعلق اپنے تجربات کے بارے میں معلومات، اعتماد اور اختیار حاصل ہونا چاہیے۔ ان کے مطابق کمپنی ایسی ٹیکنالوجی، شراکت داریوں اور تعلیمی وسائل میں سرمایہ کاری جاری رکھے گی جو صارفین کو اے آئی مواد سمجھنے اور اسے تخلیقی و ذمہ دارانہ انداز میں استعمال کرنے میں مدد دے۔

کمپنی نے اے آئی لٹریسی پروگرام کے لیے 40 لاکھ ڈالر سے زائد سرمایہ کاری کا اعلان بھی کیا ہے۔ ٹک ٹاک کے مطابق نومبر 2025 میں شروع کیے گئے اس پروگرام کے تحت شراکت دار اداروں نے تعلیمی مواد تیار کیا، جسے اب تک 20 کروڑ سے زائد مرتبہ دیکھا جا چکا ہے۔

ٹک ٹاک کا کہنا ہے کہ اے آئی کے غلط استعمال، خاص طور پر اسپیم اور گمراہ کن مواد کے خلاف کارروائیاں مزید سخت کی جائیں گی۔ کمپنی کے مطابق رواں سال کی پہلی سہ ماہی میں 8 کروڑ 60 لاکھ سے زائد جعلی اکاؤنٹس ختم کیے گئے، جبکہ اے آئی سے تیار کردہ اسپیم کی شناخت کے لیے نئے نظام کی آزمائش بھی شروع کی جائے گی۔

کمپنی نے بتایا کہ پاکستان میں بھی تخلیق کار اے آئی کو تعلیم، تفریح اور عوامی آگاہی کے لیے استعمال کر رہے ہیں، جہاں مختلف کریئیٹرز ٹیوٹوریلز، عملی مظاہروں اور تخلیقی مواد کے ذریعے صارفین کو اے آئی ٹولز سے متعارف کرا رہے ہیں۔

ٹک ٹاک کے مطابق اے آئی مواد میں شفافیت کے لیے بھی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ وہ **C2PA Content Credentials** کے نفاذ کے ذریعے صارفین کو یہ سمجھنے میں مدد دے رہی ہے کہ کوئی مواد اے آئی سے تیار کیا گیا ہے یا اس میں اے آئی کے ذریعے تبدیلی کی گئی ہے۔

ٹک ٹاک کے مطابق Content Credentials، تخلیق کاروں کے لیبلز اور کمپنی کی Invisible Watermarking ٹیکنالوجی کے ذریعے 3 ارب سے زائد ویڈیوز پر لیبل لگائے جا چکے ہیں۔

کمپنی نے مزید کہا کہ وہ اے آئی سے متعلق تخلیقی ٹولز اور فیچرز میں سرمایہ کاری جاری رکھے گی تاکہ صارفین محفوظ اور پراعتماد انداز میں مواد تخلیق، دریافت اور شیئر کر سکیں۔

sui northern 2
Leave A Reply

Your email address will not be published.