کراچی میں میر رضا کی پوسٹ مارٹم رپورٹ پر نئے سوالات اٹھ گئے ہیں، پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ سید نے رپورٹ میں متعدد سنگین خامیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے ایس پی ایسٹ کو باضابطہ خط ارسال کر دیا ہے۔
ڈاکٹر سمعیہ سید کے مطابق ڈاکٹر اسامہ شیخ کی تیار کردہ پوسٹ مارٹم رپورٹ میں کئی اہم فارنزک تقاضے پورے نہیں کیے گئے۔ خط میں کہا گیا ہے کہ لاش کے ایکسرے نہیں کیے گئے، انٹری زخم پر موجود بارود کے نشانات کا کیمیکل تجزیہ نہیں کیا گیا اور فارنزک معیار کے مطابق تصاویر بھی نہیں لی گئیں۔
پاکستان اور ڈنمارک کے درمیان توانائی کے شعبے میں سٹریٹجک تعاون، مفاہمتی یادداشت پر دستخط
خط کے مطابق انٹری اور ایگزٹ زخموں کی ہڈیوں کے نشانات کے مطابق وضاحت موجود نہیں، جبکہ رپورٹ میں انٹری زخم کا سائز ایگزٹ زخم سے بڑا درج کیا گیا ہے، جس کی دوبارہ جانچ اور تصدیق ضروری تھی۔
پولیس سرجن نے مزید نشاندہی کی کہ گن پاؤڈر کی موجودگی جانچنے کے لیے ہاتھوں سے نمونے حاصل نہیں کیے گئے، لاش کے گلنے سڑنے کی نوعیت واضح نہیں کی گئی اور چہرہ ناقابلِ شناخت ہونے کے باوجود شناخت کی تصدیق کے لیے ڈی این اے سیمپل بھی نہیں لیا گیا۔
ڈاکٹر سمعیہ سید نے ضرورت پڑنے پر قبر کشائی کی سفارش بھی کی ہے تاکہ مزید فارنزک معائنہ کیا جا سکے۔
دوسری جانب کراچی پولیس چیف آزاد خان کا کہنا ہے کہ پولیس میڈیکو لیگل افسر کی رپورٹ پر کارروائی کرتی ہے، اگر رپورٹ میں کوئی خامی تھی تو اسے فوری طور پر درست کیا جانا چاہیے تھا۔