جوڑوں کے درد میں مفید قرار دیے جانے والے پھل، جو ورم کم کرنے میں مدد دے سکتے ہیں
کیا آپ جوڑوں کے درد میں مبتلا ہیں؟ اگر ہاں تو آپ اکیلے نہیں، کیونکہ عمر کی چوتھی اور پانچویں دہائی میں بہت سے افراد کو اس تکلیف کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
عمر بڑھنے کے ساتھ ہڈیاں کمزور ہونے لگتی ہیں، جس کے باعث جوڑوں کا درد ایک عام مسئلہ بن جاتا ہے۔ عام طور پر یہ مسئلہ خون میں یورک ایسڈ کی مقدار بڑھنے کے نتیجے میں بھی پیدا ہو سکتا ہے۔
اپوزیشن بامقصد مذاکرات کیلئے تیار ہے لیکن حکومت سنجیدہ نہیں: راجہ ناصر عباس
یورک ایسڈ عام حالات میں خون میں تحلیل ہو کر گردوں کے ذریعے پیشاب کے راستے جسم سے خارج ہو جاتا ہے، لیکن جب جسم میں اس کی مقدار زیادہ بننے لگے تو گردے اسے مکمل طور پر خارج نہیں کر پاتے۔ اس کے نتیجے میں یورک ایسڈ جوڑوں میں کرسٹل کی شکل میں جمع ہونے لگتا ہے، جس سے درد اور سوزش پیدا ہو سکتی ہے۔
اگرچہ صرف غذا کے ذریعے جوڑوں کے درد کا مکمل علاج ممکن نہیں، تاہم بعض غذائیں اور پھل جسم میں ورم کو کم کرنے اور تکلیف کی شدت گھٹانے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔
جوڑوں کے درد کی مختلف اقسام میں ورم کا کردار اہم ہوتا ہے، اس لیے ورم کو کم کرنے والی غذائیں بعض افراد کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہیں۔
بیریز
بلیو بیری، اسٹرابیری اور دیگر بیریز میں ورم کش خصوصیات پائی جاتی ہیں۔ ان میں موجود وٹامنز، منرلز اور اینٹی آکسائیڈنٹس جوڑوں کے درد اور سوزش میں کمی کے لیے مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔
ترش پھل
مالٹے، لیموں اور گریپ فروٹ جیسے ترش پھلوں میں وٹامن سی، فولیٹ اور دیگر اہم غذائی اجزا موجود ہوتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق وٹامن سی جسم میں یورک ایسڈ کی سطح کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے، جس سے جوڑوں کے مسائل سے بچاؤ میں مدد مل سکتی ہے۔
انناس
انناس وٹامن سی سے بھرپور پھل ہے جبکہ اس میں برومیلین (Bromelain) نامی انزائم بھی موجود ہوتا ہے، جو سوجن اور جوڑوں کی تکلیف کم کرنے میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔ اسے تازہ حالت میں کھانے کے علاوہ مختلف غذاؤں اور مشروبات میں بھی شامل کیا جا سکتا ہے۔
چیری
چیری میں پولی فینولز، وٹامن سی اور اینٹی آکسائیڈنٹس موجود ہوتے ہیں۔ تحقیقی رپورٹس کے مطابق چیری کے استعمال سے جسم میں آکسیڈیٹو تناؤ اور ورم میں کمی آ سکتی ہے، جس سے جوڑوں کی تکلیف میں بہتری لانے میں مدد مل سکتی ہے۔
آڑو، آلو بخارا اور خوبانی
آڑو، خوبانی اور آلو بخارا بھی ورم کش خصوصیات رکھتے ہیں اور وٹامن سی سے بھرپور ہوتے ہیں۔ آڑو میں موجود پولی فینولز جبکہ آلو بخارے میں موجود اینتھو سائاننز (Anthocyanins) ورم کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔
انگور
ماہرین کے مطابق انگور اینٹی آکسائیڈنٹس اور پولی فینولز کا اچھا ذریعہ ہیں۔ سرخ اور سیاہ انگوروں میں موجود ریسویراٹرول (Resveratrol) ایک قدرتی مرکب ہے جس میں ورم کش خصوصیات پائی جاتی ہیں، جو جوڑوں کی تکلیف میں کمی لانے میں مدد دے سکتی ہیں۔
نوٹ: یہ مضمون طبی جریدوں میں شائع ہونے والی معلومات پر مبنی ہے، تاہم کسی بھی غذائی تبدیلی یا علاج کے لیے اپنے معالج سے مشورہ ضرور کریں۔