Gas Leakage Web ad 1

زیادہ چینی کھانے کا ایک اور بڑا نقصان دریافت

0

ایسا مانا جاتا ہے کہ زیادہ مقدار میں میٹھا کھانے سے ذیابیطس ٹائپ 2 کا خطرہ بڑھ سکتا ہے، لیکن اب ایک نئی تحقیق میں اس عادت کا ایک اور نقصان بھی سامنے آیا ہے۔

Gas Leakage Web ad 2

تحقیق کے مطابق زیادہ میٹھا کھانے سے ہائی بلڈ پریشر کے خطرے کے ساتھ ساتھ دمہ کے شکار افراد میں اس مرض کی شدت بھی بڑھ سکتی ہے۔
ٹرمپ نے امریکی اسلحے کے ذخائر میں کمی کی خبروں کو مسترد کر دیا
جرنل نیوٹریشنز میں شائع ہونے والی تحقیق میں بتایا گیا کہ چینی کا زیادہ استعمال مختصر مدت کے لیے پھیپھڑوں کے ورم میں اضافہ کر سکتا ہے، جس سے الرجی کے دوروں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

اس تحقیق میں چوہوں پر تجربات کیے گئے، جنہیں معمول کی غذا کے ساتھ میٹھے دودھ تک رسائی دی گئی۔ محققین نے دریافت کیا کہ صرف دو ہفتوں کے بعد ہی ان چوہوں میں منفی اثرات سامنے آنے لگے۔

محققین کے مطابق یہ اپنی نوعیت کی پہلی تحقیق ہے جس سے معلوم ہوا کہ چینی کتنی تیزی سے ورم سے جڑی کیفیات کو بدتر بنا سکتی ہے۔

دمہ ایک دائمی اور تکلیف دہ مرض ہے جس کا فی الحال کوئی مکمل علاج موجود نہیں، تاہم اس کی علامات کو کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔ اس مرض میں پھیپھڑے متاثر ہوتے ہیں، جس کے باعث سانس لینے اور روزمرہ کے کاموں میں مشکلات پیش آتی ہیں۔

دمہ کے دورے کے دوران سانس کی نالیاں سوج جاتی ہیں اور پٹھے سکڑ جاتے ہیں، جس کے نتیجے میں کھانسی، سانس لینے میں دشواری اور سینے میں گھٹن جیسی علامات پیدا ہوتی ہیں۔

محققین کا کہنا تھا کہ جب بچے زیادہ میٹھا کھاتے ہیں تو عام طور پر دانتوں کے مسائل یا موٹاپے کے بارے میں سوچا جاتا ہے، لیکن دمہ کے خطرے کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ تحقیق کے نتائج اس بات کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہیں کہ میٹھے کا استعمال محدود کیا جائے، خاص طور پر دمہ کے شکار افراد کو اس حوالے سے احتیاط کرنی چاہیے۔

محققین کے مطابق چینی جسم میں ورم کو بڑھانے کا باعث بن سکتی ہے کیونکہ یہ مدافعتی نظام کے توازن کو متاثر کرتی ہے۔

sui northern 2
Leave A Reply

Your email address will not be published.