تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق گل پلازہ آتشزدگی کے واقعے کو حادثاتی قرار دیا گیا ہے، جبکہ فرانزک رپورٹ میں کسی بھی قسم کے دھماکہ خیز مواد کے استعمال کے شواہد نہیں ملے۔
ذرائع کے مطابق پولیس نے دکاندار نعمت اللہ اور اس کے 11 سالہ بیٹے حذیفہ کو مقدمے میں نامزد کر لیا ہے۔ اس کے علاوہ گل پلازہ کمیٹی کے صدر تنویر پاستا، نائب صدر عمار اسماعیل، جنرل سیکرٹری محمد امین اور جوائنٹ سیکرٹری محمد رمضان کو بھی ملزم نامزد کیا گیا ہے، جبکہ تمام ملزمان کو مفرور قرار دیا گیا ہے۔
2025-26: صارفین ملکی تاریخ کا مہنگا پیٹرول اورڈیزل خریدنے پر مجبور ہوئے
تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق گل پلازہ میں لگنے والی آگ کے نتیجے میں 72 افراد جان کی بازی ہار گئے، جبکہ چار لاشوں کی باقیات تاحال کسی نے وصول نہیں کیں۔ تحقیقات کے دوران چار عینی شاہدین کے دفعہ 164 کے تحت بیانات بھی ریکارڈ کیے گئے۔
پنجاب فرانزک لیبارٹری کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جائے وقوعہ سے کسی قسم کا دھماکہ خیز مواد نہیں ملا اور آگ کا آغاز دکان نمبر 193 سے ہوا۔
رپورٹ کے مطابق دکاندار نعمت اللہ اکثر اپنی دکان اپنے 11 سالہ بیٹے حذیفہ کے سپرد کر کے چلا جاتا تھا۔ ابتدائی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ حذیفہ کی جانب سے ماچس کی تیلیاں جلانے اور پھینکنے سے مصنوعی پھولوں میں آگ بھڑک اٹھی۔ اس بنیاد پر نعمت اللہ اور حذیفہ کو غفلت اور لاپرواہی کا مرتکب قرار دیا گیا ہے۔
تحقیقاتی رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ کم عمر بچے کو دکان پر کام سے نہ روکنا مارکیٹ یونین کی غفلت تھی۔ آتشزدگی کے بعد مارکیٹ یونین کی جانب سے بروقت ایمرجنسی اطلاع دینے اور مدد طلب کرنے کے لیے بھی کوئی مؤثر اقدام نہیں کیا گیا۔
رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا کہ آتشزدگی کے دوران گل پلازہ کے تمام گیٹ بند تھے اور یونین کی جانب سے انہیں بروقت نہیں کھولا گیا، جس کے باعث لوگوں کو باہر نکلنے میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ بند دروازوں کو انتظامی غفلت قرار دیا گیا ہے۔
تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق یونین کے صدر تنویر پاستا نے کے الیکٹرک کو فون کر کے بجلی بند کروائی، تاہم بجلی منقطع ہونے سے عمارت میں اندھیرا چھا گیا اور متعدد افراد اندر ہی پھنس کر رہ گئے۔