واٹس ایپ نے 3 نئے فیچرز صارفین کیلئے متعارف کرا دیے
واٹس ایپ نے صارفین کے اکاؤنٹس کو مزید محفوظ بنانے کے لیے 3 نئے سکیورٹی فیچرز متعارف کرانے کا اعلان کیا ہے۔
میٹا کی جانب سے ایک بلاگ پوسٹ میں ان نئے فیچرز کی تفصیلات جاری کی گئی ہیں۔ کمپنی کے مطابق ان تمام فیچرز کا بنیادی مقصد صارفین کے اکاؤنٹس کو زیادہ محفوظ بنانا اور انہیں ممکنہ سکیورٹی خطرات سے بچانا ہے۔
واٹس ایپ میں اس وقت 2 اسٹیپ ویریفکیشن کا فیچر موجود ہے، جس میں 6 ہندسوں پر مشتمل پن کوڈ استعمال کیا جاتا ہے تاکہ ہیکرز کو اکاؤنٹس تک رسائی حاصل کرنے سے روکا جاسکے۔ اب اس فیچر کو مزید بہتر بنایا جارہا ہے اور صارفین کو حروف اور نمبروں پر مشتمل طویل پاس ورڈ منتخب کرنے کی سہولت فراہم کی جائے گی، جس کا اندازہ لگانا ہیکرز کے لیے زیادہ مشکل ہوگا۔
پمز کے مدر اینڈ چائلڈ کیئر سینٹر کیلئے رکھے گئے بجٹ کی تفصیلات سامنے آگئیں
اسی طرح پاس کیز کے فیچر میں بھی بہتری کی جارہی ہے۔ پاس کیز استعمال کرنے والے صارفین اب اپنے اکاؤنٹ کے ساتھ ایک سے زائد پاس کیز منسلک کرسکیں گے۔
کمپنی کے مطابق یہ فیچر خاص طور پر ان صارفین کے لیے مفید ہوگا جو آئی او ایس اور اینڈرائیڈ دونوں آپریٹنگ سسٹمز پر چلنے والے فونز استعمال کرتے ہیں۔
پاس کیز بنیادی طور پر ڈیجیٹل کیز ہوتی ہیں، جنہیں استعمال کرنا آسان ہونے کے ساتھ ساتھ زیادہ محفوظ بھی سمجھا جاتا ہے کیونکہ یہ کسی ویب سرور پر اسٹور نہیں ہوتیں۔ طویل پاس ورڈ کے بجائے اس ٹیکنالوجی میں لاگ اِن کے لیے 4 ہندسوں پر مشتمل پن کوڈ یا بائیومیٹرک معلومات استعمال کی جاتی ہیں۔
واٹس ایپ کی جانب سے تیسرا فیچر اینڈرائیڈ صارفین کے لیے متعارف کرایا جارہا ہے۔ اس کے ذریعے صارفین کسی ایسے نمبر سے موصول ہونے والی کال کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرسکیں گے جو ان کے کانٹیکٹس میں شامل نہیں ہوگا۔
اس فیچر کے ذریعے صارفین یہ بھی جان سکیں گے کہ کال کرنے والا نمبر کسی دوسرے ملک کا ہے یا پھر اس نمبر کا مالک ایسے گروپ کا رکن ہے جس میں صارف خود بھی شامل ہے۔
کمپنی نے بتایا ہے کہ ان نئے سکیورٹی فیچرز کو متعارف کرانے کا عمل شروع کردیا گیا ہے اور یہ آنے والے ہفتوں کے دوران تمام صارفین کے لیے دستیاب ہوں گے۔