امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے مغربی عراق میں اپنے ایک طیارے کے گرنے کی تصدیق کر دی ہے۔
سینٹکام نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری پیغام میں کہا کہ وہ ایندھن بھرنے والے طیارے کے نقصان سے آگاہ ہیں۔ ان کے مطابق دو طیارے اس واقعے میں ملوث تھے، جن میں سے ایک مغربی عراق میں گر کر تباہ ہو گیا جبکہ دوسرا بحفاظت لینڈ کر گیا ۔
نئے سپریم لیڈر کے بیان کے بعد ایران کے اسرائیل پر حملے، 30 افراد زخمی
سینٹکام کے مطابق یہ واقعہ آپریشن ایپک فیوری کے دوران پیش آیا اور اس وقت امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔ امریکی فوج نے واضح کیا ہے کہ یہ حادثہ دشمن کی فائرنگ یا دوستانہ فائر کا نتیجہ نہیں تھا ۔
امریکی میڈیا کے مطابق تباہ ہونے والے KC-135 ری فیولنگ طیارے میں 6 افراد سوار تھے ۔
دوسری جانب ایران کی ختم الانبیا سینٹرل ہیڈکوارٹر کے ترجمان کرنل ابراہیم ذوالفقاری نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا کا یہ ری فیولنگ طیارہ عراق میں مزاحمتی گروپوں کے داغے گئے میزائل سے مار گرایا گیا ہے اور اس میں موجود تمام 6 اہلکار ہلاک ہو گئے ہیں ۔ ایرانی میڈیا کے مطابق یہ حملہ اس وقت کیا گیا جب طیارہ ایک امریکی لڑاکا طیارے کو ایندھن فراہم کر رہا تھا ۔
عراق میں ایران نواز گروپوں کی تنظیم ‘اسلامک ریزیسٹنس ان عراق’ نے بھی اس طیارے کو مار گرانے کی ذمہ داری قبول کی ہے ۔