آپ نے اکثر سنا ہوگا کہ اچھی صحت کے لیے روزانہ 8 گلاس پانی پینا ضروری ہے، مگر کیا یہ بات واقعی درست ہے؟
تحقیقی رپورٹس کے مطابق ہر فرد کے لیے پانی کی مقدار مختلف ہو سکتی ہے۔ درحقیقت بیشتر افراد کو دن بھر میں ڈیڑھ سے 1.8 لیٹر پانی کی ضرورت ہوتی ہے، جو عام طور پر تجویز کی جانے والی 2 لیٹر مقدار سے کم ہے۔
ہمارے جسم کا تقریباً 60 فیصد حصہ پانی پر مشتمل ہوتا ہے اور تمام جسمانی افعال کے لیے پانی کی موجودگی ضروری ہے۔ اگر مناسب مقدار میں پانی استعمال نہ کیا جائے تو ڈی ہائیڈریشن کے نتیجے میں سانس میں بو، سر چکرانا، ذہنی الجھن اور دیگر مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔
ٹکٹیں مہنگی ہونے کی وجہ سے علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ہو کا عالم
پیشاب کی رنگت سے بھی جسم میں پانی کی کمی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ اگر پیشاب کی رنگت شفاف یا ہلکی زرد ہو تو یہ اس بات کی علامت ہے کہ جسم کو مناسب مقدار میں پانی مل رہا ہے، جبکہ گہری رنگت پانی کی کمی کی طرف اشارہ کرتی ہے۔
تحقیقی رپورٹس کے مطابق مناسب مقدار میں پانی پینے سے جسم میں کئی مثبت تبدیلیاں آ سکتی ہیں۔ دماغی افعال پر اس کے مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ جسم میں پانی کی معمولی کمی بھی مزاج، توجہ اور یادداشت پر منفی اثر ڈال سکتی ہے، جبکہ انزائٹی اور ذہنی تھکن کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
مناسب پانی پینے سے جسمانی مشقت کرنا بھی آسان ہو جاتا ہے کیونکہ مسلز کو اپنے افعال کے لیے سوڈیم، پوٹاشیم اور میگنیشیم کے توازن کی ضرورت ہوتی ہے، اور پانی کی کمی اس عمل کو متاثر کرتی ہے جس سے پٹھوں میں اکڑن پیدا ہو سکتی ہے۔ ورزش کے دوران مناسب پانی کا استعمال کارکردگی کے لیے ضروری سمجھا جاتا ہے۔
جوڑوں کی صحت بھی مناسب ہائیڈریشن سے بہتر رہتی ہے کیونکہ جوڑوں میں بڑی مقدار میں پانی موجود ہوتا ہے، اور طویل مدت تک پانی کی کمی سے ان کی جھٹکا برداشت کرنے کی صلاحیت کم ہو سکتی ہے جس سے درد کا امکان بڑھتا ہے۔
گردے جسم سے فضلہ سیال کی صورت میں خارج کرتے ہیں اور اس عمل کے لیے پانی ضروری ہوتا ہے۔ پانی کی کمی گردوں کے افعال کو متاثر کر سکتی ہے اور گردوں کی پتھری جیسے مسائل کا خطرہ بڑھا سکتی ہے کیونکہ نمکیات اور منرلز ٹھوس شکل اختیار کر سکتے ہیں۔
جسمانی درجہ حرارت کو کنٹرول کرنے میں بھی پانی اہم کردار ادا کرتا ہے۔ پسینہ جسم کو ٹھنڈا رکھنے میں مدد دیتا ہے اور جب جسم میں پانی کی کمی ہو تو گرمی برداشت کرنے کی صلاحیت کم ہو جاتی ہے۔
مناسب مقدار میں پانی پینے سے جسمانی توانائی میں اضافہ ہوتا ہے، جبکہ کمی کی صورت میں تھکاوٹ، سستی اور غنودگی محسوس ہو سکتی ہے۔ اسی طرح جلد کی صحت بھی بہتر ہوتی ہے اور پانی کی مناسب مقدار جلد کو زیادہ ہموار اور چمکدار بنانے میں مدد دیتی ہے، جبکہ جھریوں کے اثرات بھی کم ہو سکتے ہیں۔
پانی کی کمی قبض کا باعث بھی بن سکتی ہے کیونکہ جسم مختلف حصوں سے پانی کھینچتا ہے جس سے نظام ہاضمہ متاثر ہوتا ہے۔ مناسب ہائیڈریشن سے ہاضمہ بہتر رہتا ہے اور قبض سے بچاؤ میں مدد ملتی ہے۔
موسمی بیماریوں سے لڑنے کی صلاحیت بھی مناسب پانی پینے سے بہتر ہو سکتی ہے کیونکہ جسم کو جراثیم سے مقابلہ کرنے میں مدد ملتی ہے۔ اس کے علاوہ سر درد کی شکایت بھی کم ہو سکتی ہے کیونکہ ڈی ہائیڈریشن سر درد کی ایک عام وجہ سمجھی جاتی ہے۔
دل کی صحت کے لیے بھی پانی ضروری ہے کیونکہ پانی کی کمی دل پر اضافی دباؤ ڈال سکتی ہے، بلڈ پریشر اور دل کی دھڑکن متاثر ہو سکتی ہے۔ مناسب پانی دل کے افعال کو بہتر رکھنے میں مدد دیتا ہے۔
کچھ تحقیقات کے مطابق زیادہ پانی پینے سے میٹابولزم بہتر ہو سکتا ہے اور بھوک میں کمی آ سکتی ہے، جس سے وزن کنٹرول کرنے میں مدد مل سکتی ہے، خاص طور پر کھانے سے پہلے پانی پینے کی صورت میں۔
نوٹ: یہ تفصیلات طبی رپورٹس اور تحقیق پر مبنی ہیں، اور کسی بھی صحت کے مسئلے کے لیے معالج سے مشورہ کرنا ضروری ہے۔