کینیڈا میں ذیابیطس کے علاج کے لیے استعمال ہونے والی معروف دوا Ozempic کے ممکنہ سستے متبادل کے حوالے سے نئی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق Health Canada کے پاس مختلف دوا ساز کمپنیوں کی جانب سے اس دوا کے جنیرک ورژن کی منظوری کے لیے درخواستیں جمع کرائی گئی ہیں، تاہم ابھی تک کسی حتمی فیصلے کا باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا۔
پرینیتی کے شوہر راگھو چڈھا کی بی جے پی میں شمولیت، انسٹا پر ملین سے زائد فالوورز سے محروم
یہ دوا Novo Nordisk کی تیار کردہ ہے اور عالمی سطح پر اس کی طلب میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے، خاص طور پر وزن کم کرنے کے
رجحان کے باعث، جس کے نتیجے میں اس کی قیمت بھی خاصی بڑھ چکی ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر اس دوا کے متبادل کو منظوری مل جاتی ہے تو کینیڈا میں اس کی لاگت میں نمایاں کمی متوقع ہے، جس سے بڑی تعداد میں مریضوں کو سستی اور مؤثر علاج کی سہولت میسر آ سکتی ہے۔
صحت کے شعبے سے وابستہ ماہرین کا مزید کہنا ہے کہ اس حوالے سے مزید درخواستیں بھی زیرِ غور ہیں اور آنے والے وقت میں اس معاملے پر اہم پیش رفت دیکھنے کو مل سکتی ہے۔ تاہم اس وقت سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ان خبروں کی تصدیق نہیں ہو سکی کہ اوزیمپک کا جنیرک ورژن باضابطہ طور پر منظور کر لیا گیا ہے، اس لیے عوام کو مستند ذرائع پر انحصار کرنے کا مشورہ دیا جا رہا ہے۔
