وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ جب علی امین گنڈاپور نے حکومت کی بات سننا شروع کی تو انہیں عہدے سے ہٹا دیا گیا، جبکہ سہیل آفریدی ان کی بات سن رہے ہیں اور صحیح بات کو قبول کرتے ہیں۔ ان کے مطابق کچھ لوگ اب سہیل آفریدی سے بھی ناراض ہیں اور ان کی تبدیلی چاہتے ہیں، تاہم اگر پی ٹی آئی کوئی نیا وزیراعلیٰ لانا چاہتی ہے تو لا سکتی ہے۔
آبنائے ہرمز کو سلامتی اور خوشحالی کا ذریعہ بنائیں گے، ایرانی پاسدارانِ انقلاب
رانا ثناء اللہ نے یہ بات سماء ٹی وی کے پروگرام ’’میرے سوال‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان خطے میں مثبت کردار ادا کر رہا ہے اور آئندہ بھی کرتا رہے گا۔ ان کے مطابق مسلم ممالک کی بہتری کے لیے پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت اپنا کردار ادا کر رہی ہے اور اللہ تعالیٰ پاکستان کو سرخرو کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ امریکا نے ایران پر جتنی کارروائی کرنی تھی کر لی ہے اور اب وہ سمندری ناکہ بندی تک محدود ہو گیا ہے۔ ان کے مطابق کوشش ہے کہ پاکستان کے کردار کے ذریعے آبنائے ہرمز کھل جائے، اور اس حوالے سے وزیراعظم، نائب وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کے درمیان روزانہ کی بنیاد پر رابطے ہوتے ہیں۔
رانا ثناء اللہ نے بتایا کہ وزیراعظم نے اس معاملے پر وفاقی کابینہ کو بھی اعتماد میں لیا تھا۔ ان کے مطابق اس صورتحال سے دنیا کو نقصان ہو رہا ہے اور پاکستان بھی اس کے اثرات برداشت کر رہا ہے، تاہم پاکستان جنگ کو موقع کے طور پر نہیں دیکھتا بلکہ اس کا مؤقف ہے کہ جنگ کا خاتمہ ہونا چاہیے۔ ان کے مطابق پاکستان چاہتا ہے کہ مسلم دنیا کو جو بھی مواقع ملیں وہ امن کی صورت میں ہوں۔
انہوں نے کہا کہ اس صورتحال کے فوائد پاکستان اور ایران دونوں کو مل سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بجلی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت سولر سسٹم لگانے والوں اور ڈسٹری بیوشن کمپنیوں دونوں میں کم ہے، جس کی وجہ سے پیک آورز میں طلب بڑھنے پر لوڈشیڈنگ کرنا پڑتی ہے۔
رانا ثناء اللہ نے کہا کہ دکانیں بند کرانے کا مقصد بھی یہی ہے کہ پیک اوقات میں بجلی کا استعمال کم کیا جا سکے۔ ان کے مطابق حکومت سولر جنریشن کے بوجھ کو اسی حد تک قبول کرنا چاہتی ہے جس حد تک اسے نظام میں ایڈجسٹ کیا جا سکے، تاہم عوام اپنے ذاتی استعمال کے لیے جتنا چاہیں سولر لگا سکتے ہیں اور اس پر کوئی پابندی نہیں ہے۔