مچھلی کا تیل دنیا میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والے غذائی سپلیمنٹس میں شمار کیا جاتا ہے۔
اس میں اومیگا تھری فیٹی ایسڈز کی مقدار کافی زیادہ ہوتی ہے، جو انسانی صحت خصوصاً دماغی صحت کے لیے انتہائی اہم سمجھے جاتے ہیں۔
اب ایک نئی تحقیق میں اس کے روزانہ استعمال کا ایک اہم فائدہ سامنے آیا ہے، جس کے مطابق مچھلی کے تیل یا اومیگا تھری فیٹی ایسڈز کی زیادہ مقدار ڈپریشن اور انزائٹی جیسے عام ذہنی امراض سے بچاؤ میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔
ایران نے مذاکرات کیلئے پاکستانی ثالثوں کے ذریعے اپنی تجاویز بھیج دیں: ایرانی میڈیا
یہ تحقیق جرنل آف نیوٹریشن میں شائع ہوئی ہے، جس میں بتایا گیا کہ جن افراد کے جسم میں اومیگا تھری فیٹی ایسڈز کی مقدار زیادہ ہوتی ہے، ان میں ڈپریشن اور ذہنی بے چینی کا خطرہ نسبتاً کم پایا جاتا ہے۔
تحقیق میں یہ بھی دیکھا گیا کہ آیا مچھلی کا گوشت یا مچھلی کے تیل کے کیپسولز ذہنی صحت پر مثبت اثرات مرتب کرتے ہیں یا نہیں۔ اس مقصد کے لیے 2 لاکھ 58 ہزار افراد کے خون کے نمونوں اور 4 لاکھ 68 ہزار افراد کے غذائی استعمال کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا۔
نتائج کے مطابق جن افراد کے خون میں اومیگا تھری فیٹی ایسڈز کی سطح زیادہ تھی، ان میں ڈپریشن کا خطرہ 15 سے 33 فیصد جبکہ انزائٹی کا خطرہ 19 سے 22 فیصد تک کم دیکھا گیا۔
محققین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ واضح نہیں ہو سکا کہ یہ اثرات کس خاص طریقہ کار کے تحت پیدا ہوتے ہیں، تاہم ان کا خیال ہے کہ اومیگا تھری فیٹی ایسڈز خون کے بہاؤ کو بہتر بناتے ہیں اور دماغ میں موڈ سے متعلق کیمیکلز کو متحرک کرتے ہیں۔
انہوں نے یہ بھی نشاندہی کی کہ دنیا بھر میں تقریباً 75 فیصد افراد اپنی غذا میں مناسب مقدار میں اومیگا تھری شامل نہیں کرتے۔
واضح رہے کہ ڈپریشن ایک عام ذہنی بیماری ہے جو مختلف عمر کے افراد کو متاثر کر رہی ہے اور اس کے اثرات صرف ذہنی ہی نہیں بلکہ جسمانی صحت پر بھی مرتب ہوتے ہیں۔