اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ Sohail Afridi خیبر پختونخوا کے وزیرِ اعلیٰ ہیں جبکہ Muzammil Aslam وزیرِ اعلیٰ کے مشیر برائے خزانہ ہیں۔ درخواست کے مطابق وزیرِ اعلیٰ صوبے میں گڈ گورننس کے ذمہ دار ہیں اور مختلف اہم صوبائی امور پر بانی پی ٹی آئی Imran Khan سے رہنمائی اور ہدایات حاصل کرنے کے لیے مشاورت کے پابند ہیں۔
درخواست میں کہا گیا کہ صوبائی کابینہ کی تشکیل اور دیگر اہم معاملات پر ہدایات حاصل کرنے کے لیے وزیرِ اعلیٰ نے ملاقات کی اجازت طلب کی تھی۔ اس سلسلے میں وفاقی سیکرٹری داخلہ، سیکرٹری محکمہ داخلہ اور حکومتِ پنجاب سے ملاقات کے انتظامات کی درخواست بھی کی گئی تھی۔
فارورڈ بلاک نے بانی چیئرمین پی ٹی آئی کی رہائی کیلئے تحریک کا اعلان کر دیا
درخواست گزاروں کے مطابق جب وزیرِ اعلیٰ کی درخواست پر کوئی کارروائی نہ ہوئی تو عدالت سے رجوع کرتے ہوئے آئینی درخواست دائر کی گئی۔ بعد ازاں توہینِ عدالت کی درخواست بھی دائر کی گئی، جو دیگر درخواستوں کے ساتھ تاحال زیرِ التوا ہے۔
درخواست میں مزید مؤقف اپنایا گیا کہ مالی سال 2026-27 کے بجٹ کی تیاری ایک اہم اور حساس صوبائی انتظامی معاملہ ہے، جس کے لیے بانی پی ٹی آئی کی ہدایات اور رہنمائی انتہائی ضروری ہیں۔ درخواست گزاروں کے مطابق خیبر پختونخوا کے عوام نے اپنے منتخب نمائندوں کو بانی پی ٹی آئی کے ویژن کی بنیاد پر منتخب کیا، اس لیے بجٹ کی تیاری کے سلسلے میں ان سے مشاورتی ملاقات گڈ گورننس اور عوامی مفاد کے لیے ناگزیر ہے۔
درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ آئینی، قانونی اور انسانی بنیادوں پر بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی اجازت دی جائے، ملاقات کے انتظامات کا حکم دیا جائے اور درخواست گزاروں کے آئینی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔