کابینہ کمیٹی برائے نجکاری نے تین بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) کے ری اسٹرکچرنگ پلان کی منظوری دے دی، جن میں فیصل آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (فیسکو)، گوجرانوالہ الیکٹرک سپلائی کمپنی (گیپکو) اور اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (آئیسکو) شامل ہیں۔
نائب وزیراعظم کی زیر صدارت کابینہ کمیٹی برائے نجکاری کا اجلاس ہوا، جس کا اعلامیہ بھی جاری کردیا گیا ہے۔ اعلامیے کے مطابق یہ فیصلہ حکومت کی جانب سے پاور سیکٹر میں وسیع تر اصلاحات کی طرف ایک اہم قدم ہے، جس کے نتیجے میں مالی طور پر پائیدار، فعال اور صارفین کو بہتر خدمات فراہم کرنے والی تقسیم کار کمپنیوں کی بنیاد رکھی جائے گی۔
پشاور ہائیکورٹ نے بجلی بل میں تفصیل بتائے بغیر ٹیکسز وصولی روک دی
منصوبے کے تحت اثاثے، پنشن، ریٹائرمنٹ سے متعلق معاملات اور دیگر واجبات حکومتی کمپنی کو منتقل کیے جائیں گے۔ اس مقصد کے لیے اسپیشل پرپز وہیکل حکومت پاکستان کی ملکیت میں قائم کی جائے گی، جبکہ موجودہ ملازمین کی ریٹائرمنٹ سے متعلق تمام معاملات اور واجبات ڈسکوز کے ذمے رہیں گے۔
اعلامیے کے مطابق حکومت کے ذمے واجبات حکومتی وصولیوں اور واجبات کے درمیان فرق کی بنیاد پر طے کیے جائیں گے۔ ڈسکوز کی تنظیم نو کا منصوبہ حکومت کے لیے کسی بھی اضافی مالی بوجھ کا باعث نہیں بنے گا، جبکہ اس کا مقصد حکومت کے لیے قدر میں اضافہ اور قابل عمل لین دین کو یقینی بنانا ہے۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ اصلاحات کے صارفین، ملازمین، صنعت اور مقامی کمیونٹیز پر براہ راست اثرات مرتب ہوں گے۔ ملازمین کے مفادات کا مروجہ طریقہ کار کے مطابق تحفظ کیا جائے گا جبکہ تمام اسٹیک ہولڈرز کو لین دین کے ہر مرحلے سے آگاہ رکھا جائے گا۔
وزیراعظم کے مشیر محمد علی نے کہا کہ صارفین کو ریگولیٹری فریم ورک کے تحت تحفظ حاصل رہے گا، جبکہ بجلی کے نرخوں کا تعین نیپرا اور حکومتی نوٹیفکیشن کے ذریعے ہوتا رہے گا۔ فیسکو، گیپکو اور آئیسکو مجموعی طور پر 14 ملین سے زائد صارفین کو خدمات فراہم کرتی ہیں۔