قومی اقتصادی سروے پیش کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ اقتصادی سروے پورے مالی سال کی کارکردگی کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ رواں مالی سال کے ابتدائی مہینوں میں غیر یقینی صورتحال کا سامنا رہا اور مون سون کی بارشوں کے باعث معیشت متاثر ہوئی، جبکہ امریکا کی جانب سے مختلف ممالک پر ٹیرف کے نفاذ سے بھی عالمی سطح پر غیر یقینی صورتحال پیدا ہوئی۔
فواد چوہدری اور اسد عمر کی میڈیا سے گفتگو، حکومت پر سخت تنقید
انہوں نے کہا کہ حکومت مختلف بحرانوں سے نمٹنے میں کامیاب رہی اور اندرونی و بیرونی چیلنجز کے باوجود ملکی معیشت نے بہتر کارکردگی دکھائی۔ ان کے مطابق معاشی ترقی کی شرح نمو 3.7 فیصد رہی جبکہ توقع کی جا رہی تھی کہ یہ شرح 4 فیصد سے تجاوز کرے گی۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ اگر مشرق وسطیٰ کی صورتحال پیدا نہ ہوتی تو جی ڈی پی گروتھ 4 فیصد سے زیادہ ہوتی۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستانی معیشت کا حجم 452 ارب ڈالر سے تجاوز کر گیا جبکہ فی کس سالانہ آمدن 1751 ڈالر سے بڑھ کر 1901 ڈالر ہو گئی۔
محمد اورنگزیب نے کہا کہ عالمی غیر یقینی صورتحال کے باعث بین الاقوامی معیشتوں کو بھی دھچکا لگا، تاہم مشرق وسطیٰ کے بحران کے باوجود پاکستان کی معاشی کارکردگی بہتر رہی۔
انہوں نے بتایا کہ پیٹرولیم سیکٹر میں 5 فیصد گروتھ ہوئی، جولائی تا مارچ کرنٹ اکاؤنٹ 72 ملین ڈالر سرپلس رہا، جبکہ زرعی شعبے کی شرح نمو 2.89 فیصد رہی۔ ان کے مطابق ڈیری اور لائیو سٹاک کا زرعی معیشت میں 60 فیصد حصہ ہے۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ بڑی صنعتوں میں ترقی کی شرح نمو 6.1 فیصد رہی جبکہ فوڈ، ٹیکسٹائل سمیت 16 شعبوں میں مثبت رجحان دیکھنے میں آیا۔ سیمنٹ کی طلب میں 10 فیصد اور کھاد کی طلب میں 17 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ خدمات کے شعبے میں شرح نمو 4.9 فیصد رہی۔
انہوں نے کہا کہ مالی نظم و ضبط کی وجہ سے مالیاتی خسارے میں نمایاں کمی آئی، ایف بی آر کے محصولات میں 10.1 فیصد اضافہ ہوا اور گزشتہ دو برسوں میں افراط زر میں بتدریج کمی آئی۔ مہنگائی کی اوسط شرح 6.7 فیصد رہی جبکہ ترسیلات زر 33 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئیں۔ انہوں نے اوورسیز پاکستانیوں کا شکریہ بھی ادا کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ بیرونی ادائیگیوں کے لیے ترسیلات زر بنیادی اہمیت رکھتی ہیں جبکہ روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ کا مقصد سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ چاول اور چینی کی وجہ سے مجموعی برآمدات میں کمی ہوئی جبکہ ٹیکسٹائل شعبہ برآمدات میں کلیدی کردار ادا کرتا رہا۔
محمد اورنگزیب نے کہا کہ فیفا ورلڈ کپ میں پاکستان کا تیار کردہ فٹ بال استعمال ہوگا، سپورٹس برآمدات 3 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکی ہیں جبکہ زرمبادلہ کے ذخائر 17 ارب ڈالر سے زائد ہیں اور جون کے اختتام تک ان کے 18 ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے۔
انہوں نے بتایا کہ رجسٹرڈ کمپنیوں کی تعداد 3 لاکھ تک پہنچ چکی ہے جبکہ 39 ہزار نئی کمپنیاں رجسٹرڈ ہوئیں۔ فری لانسرز کا حصہ ایک ارب ڈالر تک پہنچ رہا ہے اور مینوفیکچرنگ کے 22 میں سے 16 شعبوں میں بہتری آئی ہے۔ مالی خسارہ کم ہو کر جی ڈی پی کا 0.7 فیصد رہ گیا۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ کم ہو کر 252 ملین ڈالر رہ گیا، روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ میں سرمایہ کاری 12.7 ارب ڈالر تک پہنچ گئی، پانڈا بانڈ کا کامیاب اجرا کیا گیا جبکہ ٹیکس محصولات میں 11.3 فیصد اضافہ ہوا۔
انہوں نے بتایا کہ درآمدات میں کمی حکومت کی ترجیح ہے، زرعی قرضوں میں 15 فیصد اضافہ ہوا، شرح خواندگی 63 فیصد ہو گئی، صنعتوں کے لیے بجلی سستی کی گئی اور صنعتی ٹیرف سے کراس سبسڈی ختم کر دی گئی۔
انہوں نے کہا کہ زرعی شعبے کے لیے جولائی تا مارچ 2162 ارب روپے کے قرضے فراہم کیے گئے جبکہ غریب خاندانوں کے لیے بی آئی ایس پی کا بجٹ بڑھا کر 722.5 ارب روپے کر دیا گیا۔ پی آئی اے، ایف ڈبلیو بی ایل اور ڈسکوز سمیت سرکاری اداروں کی نجکاری پر کام تیز کیا گیا جبکہ وزارتوں کے انضمام اور پی ڈبلیو ڈی سمیت متعدد محکموں کو بند کرنے کے لیے رائٹ سائزنگ کا عمل شروع کیا گیا۔
وزیر خزانہ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت معاشی اصلاحات، مالیاتی نظم و ضبط، سرمایہ کاری کے فروغ اور پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گی تاکہ ملکی معیشت کو مزید مستحکم بنیادوں پر استوار کیا جا سکے۔
قومی اقتصادی سروے کے مطابق زرعی شعبے میں ترقی کا ہدف 4.5 فیصد تھا تاہم شرح نمو 2.8 فیصد رہی۔ فصلوں کے لیے 3.5 فیصد ہدف کے مقابلے میں شرح نمو 2.4 فیصد رہی جبکہ لائیو سٹاک کے لیے 4.2 فیصد ہدف کے مقابلے میں شرح نمو 3.7 فیصد ریکارڈ کی گئی۔
جنگلات کے شعبے میں ترقی کا ہدف 3.5 فیصد تھا جبکہ شرح نمو 2 فیصد رہی۔ ماہی گیری کے شعبے میں 3 فیصد ہدف کے مقابلے میں شرح نمو 1.6 فیصد رہی جبکہ صنعت کے شعبے میں 4.3 فیصد ہدف کے مقابلے میں 3.5 فیصد ترقی ریکارڈ کی گئی۔
معدنیات کے شعبے کے لیے 3 فیصد ہدف مقرر کیا گیا تھا مگر شرح نمو 0.38 فیصد رہی۔ پیداواری شعبے میں 4.7 فیصد ہدف کے مقابلے میں شرح نمو 6.6 فیصد جبکہ بڑی صنعتوں میں 3.5 فیصد ہدف کے مقابلے میں 6.1 فیصد ترقی ریکارڈ کی گئی۔
چھوٹی صنعتوں کے لیے 8.9 فیصد ہدف کے مقابلے میں شرح نمو 8.5 فیصد رہی جبکہ بجلی، گیس اور واٹر سپلائی کے شعبے میں 3.5 فیصد ہدف کے باوجود منفی گروتھ ریکارڈ کی گئی اور 10 فیصد کمی دیکھنے میں آئی۔
تعمیرات کے شعبے میں 3.8 فیصد ہدف کے مقابلے میں 5.7 فیصد ترقی ہوئی جبکہ خدمات کے شعبے میں 4 فیصد ہدف کے مقابلے میں 4.09 فیصد شرح نمو ریکارڈ کی گئی۔ ہول سیل اور ریٹیل کے شعبے میں 3.9 فیصد ہدف کے مقابلے میں شرح نمو 3.7 فیصد رہی۔
ٹرانسپورٹ کے شعبے میں 3.4 فیصد ہدف کے مقابلے میں شرح نمو 2.3 فیصد رہی جبکہ ہوٹل اور فوڈ کے شعبے میں 4.1 فیصد ہدف کے مقابلے میں 3.9 فیصد ترقی ریکارڈ کی گئی۔ معلومات اور مواصلات کے شعبے میں 5 فیصد ہدف کے مقابلے میں 7.5 فیصد شرح نمو رہی۔
انشورنس اور مالیاتی شعبے میں 5 فیصد ہدف کے مقابلے میں شرح نمو صرف 0.32 فیصد رہی جبکہ رئیل اسٹیٹ کے شعبے میں 4.2 فیصد ہدف کے مقابلے میں 3.6 فیصد ترقی ریکارڈ کی گئی۔ شعبہ تعلیم میں 4.5 فیصد ہدف کے مقابلے میں 5.2 فیصد شرح نمو رہی جبکہ سماجی شعبے میں 4 فیصد ہدف کے مقابلے میں 6.8 فیصد ترقی ریکارڈ کی گئی۔
نجی شعبے کے لیے 4.5 فیصد ہدف مقرر کیا گیا تھا مگر شرح نمو 3.6 فیصد رہی جبکہ اہم فصلوں میں منفی 4.5 فیصد ہدف کے مقابلے میں 0.65 فیصد شرح نمو ریکارڈ کی گئی۔
گندم کی پیداوار 4.3 فیصد اضافے کے ساتھ 2 کروڑ 96 لاکھ 5 ہزار ٹن تک پہنچ گئی جبکہ چاول کی پیداوار 2.8 فیصد اضافے سے 99 لاکھ 98 ہزار ٹن رہی۔ گنے کی پیداوار میں 6.2 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 8 کروڑ 94 لاکھ 50 ہزار ٹن تک پہنچ گئی۔
مکئی کی پیداوار 2.68 فیصد کمی کے ساتھ 87 لاکھ 94 ہزار ٹن رہی جبکہ کپاس کی پیداوار 0.5 فیصد کمی کے ساتھ 70 لاکھ 52 ہزار گانٹھیں ریکارڈ کی گئی۔ چنے کی پیداوار میں غیر معمولی 50.4 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا۔
ملک میں آلو کی پیداوار 27.6 فیصد اور کیلے کی پیداوار 30.8 فیصد بڑھ گئی جبکہ آم، ہلدی اور مرچ کی پیداوار میں بالترتیب 11.6، 25.1 اور 9.2 فیصد اضافہ ہوا۔ لائیو سٹاک کے شعبے میں 3.75 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
سبزیوں کی پیداوار میں 12.6 فیصد اضافہ ہوا جبکہ پھلوں کی پیداوار 2.8 فیصد بڑھ گئی۔ مالی سال 2025-26 کے دوران لائیو سٹاک میں مجموعی طور پر 3.8 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
ملک میں بھینسوں کی تعداد 4 کروڑ 91 لاکھ اور گائے بیل کی تعداد 6 کروڑ 19 لاکھ ریکارڈ کی گئی، جبکہ دنبوں اور بھیڑوں کی تعداد 3 کروڑ 35 لاکھ اور بکریوں کی تعداد 9 کروڑ 18 لاکھ رہی۔
اکنامک سروے کے مطابق اونٹوں کی تعداد 11 لاکھ 93 ہزار جبکہ گھوڑوں کی تعداد 3 لاکھ 86 ہزار تک پہنچ گئی، جبکہ رواں مالی سال کے دوران گدھوں کی تعداد 61 لاکھ 60 ہزار ریکارڈ کی گئی۔