Gas Leakage Web ad 1

وفاقی آئینی عدالت نے مونال ریسٹورنٹ فوری کھولنے کی استدعا مسترد کر دی

0

مونال ریسٹورنٹ کی بندش کے خلاف سی ڈی اے کی نظرثانی درخواست پر سماعت ہوئی، وفاقی حکومت نے مونال ریسٹورنٹ مسمار کرنے کے فیصلے پر نظرثانی کی حمایت کر دی۔

Gas Leakage Web ad 2

وفاقی آئینی عدالت نے مونال ریسٹورنٹ مسمار کرنے کے سپریم کورٹ فیصلے پر سوالات اٹھا دیے۔ جسٹس حسن رضوی نے کہا کہ سپریم کورٹ فیصلے کے مطابق جانوروں کے حقوق ہیں لیکن انسانوں کے نہیں۔

فواد چوہدری اور اسد عمر کی میڈیا سے گفتگو، حکومت پر سخت تنقید

دورانِ سماعت جسٹس حسن رضوی نے کہا کہ مونال کی لیز کی منسوخی کا کیس سول کورٹ میں زیر التوا تھا جبکہ کچھ ریسٹورنٹس کی انٹرا کورٹ اپیلیں بھی ہائی کورٹ میں زیر التوا تھیں۔

وکیل مونال ریسٹورنٹ نے کہا کہ سپریم کورٹ نے ایک فیصلے سے تمام عدالتوں میں زیر التوا کیسز نمٹا دیے۔ اس پر جسٹس حسن رضوی نے استفسار کیا کہ متعلقہ فریقین کو سننے کا نکتہ سپریم کورٹ میں کیوں نہیں اٹھایا گیا اور سپریم کورٹ میں تمام وکیل کیوں خاموش رہے۔

وکیل احسن بھون نے کہا کہ ہم یہاں بھی اسی طرح مؤدبانہ انداز میں کھڑے ہیں جیسے سپریم کورٹ میں تھے۔ جسٹس حسن رضوی نے کہا کہ وکیل کا کام قانونی نکات اٹھانا ہے، ادب سے درباری کھڑے ہوتے ہیں، جبکہ سی ڈی اے کی نظرثانی درخواست میں کوئی ٹھوس قانونی نکات نہیں اٹھائے گئے۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ وائلڈ لائف بورڈ کا نیا قانون 2024 میں آ چکا ہے اور تمام وکلاء اس بات پر متفق ہیں کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے۔ احسن بھون نے کہا کہ تمام فریقین اس بات پر متفق ہیں کہ سول کورٹ میں کیس چلنے دیا جائے۔

جسٹس حسن اظہر رضوی نے کہا کہ وکلاء کے اتفاق سے عدالتیں نہیں چلتیں اور اس نوعیت کا سپریم کورٹ کا فیصلہ اتفاق رائے سے ختم نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے کہا کہ عدالتی حکم واپس لینے کے لیے تفصیلی فیصلہ دینا ہوگا۔

انہوں نے مزید کہا کہ عدالت سپریم کورٹ کی طرح اپنا فیصلہ فریقین کو سنے بغیر نہیں دینا چاہتی۔

عدالت نے کیس کی مزید سماعت جولائی کے دوسرے ہفتے تک ملتوی کر دی۔

sui northern 2
Leave A Reply

Your email address will not be published.