کراچی: طبی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ تپ دق (ٹی بی) آج بھی دنیا کے لیے کووڈ سے زیادہ خطرناک بیماریوں میں شمار ہوتی ہے اور اس کے مکمل خاتمے کے لیے عالمی سطح پر مؤثر اقدامات ناگزیر ہیں۔
ماہرین کے مطابق دنیا بھر میں مختلف بیماریاں تیزی سے پھیل رہی ہیں، جبکہ موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث نہ صرف درجہ حرارت میں اضافہ ہو رہا ہے بلکہ مختلف بیماریوں کے جراثیم بھی زیادہ مضبوط اور مؤثر ہوتے جا رہے ہیں۔
پاکستان کا دورہ ویسٹ انڈیز، قومی ٹیم کا پہلے ٹیسٹ میں 7 بیٹرز کے ساتھ میدان میں اترنے کا منصوبہ
ان کا کہنا تھا کہ دنیا کو نئی بیماریوں سے نمٹنے کے ساتھ ساتھ پرانی مہلک بیماریوں کے خاتمے کا بھی بڑا چیلنج درپیش ہے، جن میں ٹی بی سرفہرست ہے۔
اسی سلسلے میں تھائی لینڈ کے شہر بنکاک میں اے پی اے سی۔آئی آر آئی ڈی ایس (APAC-IRIDS) کانفرنس کا انعقاد کیا گیا، جس میں دنیا بھر سے ممتاز طبی ماہرین نے شرکت کی اور ٹی بی کے خاتمے سے متعلق مختلف پہلوؤں پر تبادلہ خیال کیا۔
پاکستان سے ڈاکٹر کنیز فاطمہ، بھارت سے ڈاکٹر سبرامانین سوامی ناتھ، انڈونیشیا سے ڈاکٹر ارلینا برہان، فلپائن سے ڈاکٹر روگایا ڈبلیو کالاپس اور روش کے ڈائریکٹر سیرجیو کارمونا سمیت متعدد ماہرین نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے دنیا بھر میں ٹی بی کے کنٹرول اور خاتمے کے لیے اپنی تجاویز پیش کیں۔
کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ماہرین نے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ ٹی بی کو صرف کنٹرول کرنے کے بجائے اس کے مکمل خاتمے پر توجہ دی جائے اور عالمی سطح پر مشترکہ حکمت عملی اختیار کی جائے۔
طبی ماہرین کا کہنا تھا کہ ٹی بی ایک متعدی بیماری ہے جو ایک شخص سے دوسرے شخص میں آسانی سے منتقل ہو جاتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس بیماری کے جراثیم خاموشی سے جسم میں منتقل ہوتے ہیں اور اکثر مریض کو کافی عرصے تک اس بات کا علم ہی نہیں ہو پاتا کہ وہ ٹی بی جیسے مہلک مرض میں مبتلا ہو چکا ہے۔