Gas Leakage Web ad 1

پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس؛ صدر مملکت کے اعتراضات اور اپوزیشن کے احتجاج کے باوجود بلز منظور،اپوزیشن کااحتجاج ،نعرے بازی ،اپوزیشن کی غزہ پیس بورڈ کی مخالفت

پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس؛ صدر مملکت کے اعتراضات اور اپوزیشن کے احتجاج کے باوجود بلز منظور،اپوزیشن کااحتجاج ،نعرے بازی ،اپوزیشن کی غزہ پیس بورڈ کی مخالفت

0

پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں اپوزیشن کے شدید احتجاج اور صدر مملکت کی جانب سے اعتراضات کے باوجود مختلف بلز منظور کر لیے گئے۔ پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس جمعہ کو اسپیکر ایاز صادق کی صدارت میں مقررہ وقت سے 35 منٹ تاخیر سے شروع ہوا، جس میں قانون سازی کے متعدد اہم نکات زیر بحث آئے۔ اجلاس کے دوران اپوزیشن کی جانب سے شدید احتجاج اور نعرے بازی بھی کی گئی۔

Gas Leakage Web ad 2

مشترکہ اجلاس میں صدر مملکت کی جانب سے دانش اسکولز اتھارٹی بل اور گھریلو تشدد سے متعلق بل پر اعتراضات سامنے آئے، جن میں کہا گیا کہ وفاقی حکومت کو دانش اسکولز اتھارٹی بنانے سے قبل صوبوں کے ساتھ مشاورت کرنی چاہیے تھی۔ صدر کے اعتراضات میں گھریلو تشدد سے متعلق بل کو مبہم قرار دیتے ہوئے تجویز کردہ سزاؤں پر بھی سوالات اٹھائے گئے اور کہا گیا کہ بل کو موجودہ شکل میں منظور کرنے کے بجائے اس پر دوبارہ غور کیا جانا چاہیے۔ اجلاس میں قومی کمیشن برائے انسانی حقوق ترمیمی بل پیش کیا گیا، جو وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے ایوان میں پیش کیا۔ پیپلز پارٹی کی رکن شازیہ مری نے بل میں ترمیم پیش کی، جس کی حکومت نے حمایت کی۔

قومی کمیشن برائے انسانی حقوق بل پر جے یو آئی کی جانب سے پیش کی گئی ترامیم مسترد کر دی گئیں، جو سینیٹر کامران مرتضیٰ اور عالیہ کامران نے پیش کی تھیں۔ بعد ازاں پارلیمنٹ نے قومی کمیشن برائے انسانی حقوق ترمیمی بل 2025 کی منظوری دے دی۔ دانش اسکولز اتھارٹی بل 2025 بھی مشترکہ اجلاس میں پیش کیا گیا۔ جے یو آئی کے سینیٹر کامران مرتضیٰ نے اس موقع پر صدر مملکت کی ایڈوائس ایوان میں پڑھ کر سنائی اور کہا کہ صدر نے بلز پر صوبوں سے مشاورت کی ہدایت دی تھی، جسے نظر انداز کیا جا رہا ہے اور وفاق صوبوں کی حدود میں مداخلت کر رہا ہے۔ اس دوران اسپیکر نے اپوزیشن کے اعتراضات کو نظر انداز کرتے ہوئے منظوری کا عمل شروع کر دیا، جس پر اپوزیشن نے شدید نعرے بازی کی۔

دونوں ایوانوں کے قائد حزب اختلاف اپنی نشستوں پر کھڑے ہو گئے جبکہ اپوزیشن اراکین ایوان میں مسلسل نعرے لگاتے رہے۔ پی ٹی آئی کے اراکین نے اسپیکر ڈائس کے سامنے احتجاج کیا۔ سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر علامہ راجا ناصر عباس اور بیرسٹر گوہر نے بھی نعرے بازی کی جبکہ بیرسٹر گوہر نے دہشت گرد دہشت گرد نامنظور کے نعرے لگائے۔ محمود خان اچکزئی اور علامہ راجا ناصر عباس کی قیادت میں پی ٹی آئی اراکین کا احتجاج جاری رہا، تاہم اپوزیشن کے شدید احتجاج اور ہنگامہ آرائی کے باوجود پارلیمنٹ نے دانش اسکولز اتھارٹی بل کی منظوری دے دی۔

بعد ازاں گھریلو تشدد روک تھام و تحفظ بل 2025 منظوری کے لیے مشترکہ اجلاس میں پیش کیا گیا۔ جے یو آئی کے ارکان نے اس موقع پر صدر مملکت کے اعتراضات ایوان میں پیش کیے۔ سینیٹر کامران مرتضیٰ نے کہا کہ صدر کے اعتراضات کو نظر انداز نہ کیا جائے، جبکہ عالیہ کامران کا کہنا تھا کہ مولانا فضل الرحمان اس بل پر بات کرنا چاہتے ہیں، تاہم اسپیکر نے ریمارکس دیے کہ جس رکن نے ترامیم پیش نہیں کیں اسے بات کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ایوان نے سینیٹر کامران مرتضیٰ اور عالیہ کامران کی ترامیم مسترد کر دیں۔ اس کے بعد پی ٹی آئی کے اراکین اپنی نشستوں پر بیٹھ گئے، تاہم اقبال آفریدی اور انجینئر حمید حسین کا تیراہ آپریشن سے متعلق احتجاج جاری رہا۔ اسی دوران ایوان میں گھریلو تشدد روک تھام و تحفظ بل 2025 کی منظوری کا عمل مکمل کر لیا گیا۔

بنگلا دیش میں عام انتخابات کیلئے مہم کاباضابطہ آغاز ہوگیا، کون کون سی جماعتیں میدان میں ہیں؟

وزیر مملکت طلال چوہدری نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ گھریلو تشدد بل میں پہلی بار مردوں کو بھی شامل کیا گیا ہے، جس پر ایوان میں قہقہے لگ گئے۔ اجلاس کے دوران ایم کیو ایم کے پارلیمانی لیڈر ڈاکٹر فاروق ستار کی جانب سے کراچی میں سانحہ گل پلازہ پر حکومت اور اپوزیشن کی دستخط شدہ مشترکہ قرارداد پیش کی گئی۔ سینیٹر شیری رحمان نے کہا کہ اس قرارداد پر کسی کو اعتراض نہیں اور سانحہ گل پلازہ ایک سنگین حادثہ تھا، جو کسی ایک شہر کا نہیں بلکہ پورے پاکستان کا مسئلہ ہے، اس لیے وفاقی حکومت کو بھی متاثرین کی امداد کرنی چاہیے۔

بعد ازاں پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں سانحہ گل پلازہ پر متفقہ قرارداد منظور کر لی گئی، جس میں شہدا کے لیے دعائے مغفرت، متاثرین سے اظہار یکجہتی، آگ سے بچاؤ کے انتظامات اور متاثرین کو معاوضہ دینے کا مطالبہ کیا گیا۔ شیری رحمان نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ گل پلازہ حادثے سے متعلق مزید تفصیلات سامنے آ رہی ہیں اور اس معاملے کو سیاست یا لسانیت کا مسئلہ نہیں بنایا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کراچی اور شہریوں کی مکمل ذمہ داری لیتی ہے اور لاشوں پر سیاست کرنے کے بجائے مسائل کے حل پر توجہ دی جانی چاہیے۔

مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے علامہ راجا ناصر عباس نے کہا کہ دنیا اس وقت ایک حساس موڑ سے گزر رہی ہے اور غزہ کے عوام اپنی آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عالمی عدالت انصاف نے نیتن یاہو کو دہشت گرد قرار دیا ہے اور پیس بورڈ کے نام پر جو کچھ ہو رہا ہے وہ دراصل قبضے کی کوشش ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پیس بورڈ میں فلسطینیوں کی نمائندگی موجود نہیں اور پاکستان کو اس کے خلاف قرارداد منظور کرنی چاہیے کیونکہ یہ عزت، وقار اور غیرت کا معاملہ ہے۔

sui northern 2
Leave A Reply

Your email address will not be published.