امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایران آبنائے ہرمز کو دباؤ ڈالنے کے ایک ذریعے کے طور پر استعمال کر رہا ہے اور امریکا عالمی بحری جہاز رانی کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات جاری رکھے گا۔
فلپائن میں آسیان اجلاس میں شرکت کے لیے روانگی سے قبل گفتگو کرتے ہوئے مارکو روبیو نے کہا کہ امریکا ایران کے ساتھ تنازع کے حل کے لیے سفارتی راستہ اختیار کرنے کے لیے ہمیشہ تیار ہے، تاہم سفارت کاری اسی صورت مؤثر ہو سکتی ہے جب اس میں حقیقی سنجیدگی موجود ہو۔
فیفا ورلڈکپ: فرانس کے اسٹار فٹبالر ایمباپے نے مسلسل دوسری بار ‘گولڈن بوٹ’ ایوارڈ جیت لیا
انہوں نے کہا کہ اگر ایران کسی بھی مفاہمت یا معاہدے کی شرائط کی خلاف ورزی کرتا ہے تو ایسا معاہدہ اپنی افادیت کھو دیتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا ایران کے ساتھ کئی مواقع پر بات چیت کی کوشش کر چکا ہے اور آئندہ بھی یہ کوششیں جاری رکھے گا۔
مارکو روبیو نے مزید کہا کہ ایران آبنائے ہرمز کو بطور دباؤ استعمال کر رہا ہے، جبکہ امریکا بین الاقوامی بحری تجارت اور جہاز رانی کے تحفظ کے لیے اپنی ذمہ داریاں نبھاتا رہے گا۔ انہوں نے زور دیا کہ اس سلسلے میں دیگر ممالک کو بھی اپنی ذمہ داری ادا کرتے ہوئے بوجھ بانٹنا چاہیے، خواہ وہ عسکری سازوسامان کی فراہمی ہو یا مالی معاونت۔