(سپیشل کراسپنڈنٹ)
ایرانی صدر **مسعود پزشکیان** نے سرکاری ٹی وی سے خطاب میں کہا کہ ایران دباؤ اور دھمکیوں کے آگے نہیں جھکے گا۔ انہوں نے امریکی صدر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر جنگ کے مقاصد حاصل ہو چکے ہیں تو پھر مسلسل دھمکی آمیز بیانات دینے کی ضرورت کیوں پیش آ رہی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران کو تقسیم کرنے کے خواب دیکھنے والوں کو اپنے اقدامات کے نتائج پر غور کرنا چاہیے۔ ان کے مطابق ایرانی قوم اپنی سرزمین کے ایک ایک انچ کے دفاع کے لیے متحد ہے اور ہر ممکن اقدام کرے گی۔
اس سے قبل ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی کے ترجمان **ابراہیم رضائی** نے کہا تھا کہ مخالف فریق پہلے سے طے شدہ مفاہمتی یادداشت کی تمام شقوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے باقاعدہ جنگی راستہ اختیار کر چکا ہے، جس کے بعد اس یادداشت کی عملی حیثیت باقی نہیں رہی۔
دوسری جانب ایرانی پارلیمنٹ نے آبنائے ہرمز کی سلامتی اور اس کی پائیدار ترقی سے متعلق اسٹریٹجک ایکشن پلان کی بھی منظوری دے دی ہے، جسے خطے کی موجودہ صورتحال کے تناظر میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔