Gas Leakage Web ad 1

گزشتہ ڈیڑھ سال میں نجی شعبے کو 1800 ارب روپے کے قرضے جاری کیے، بینکنگ انڈسٹری

0

مقامی بینکنگ انڈسٹری نے گزشتہ ڈیڑھ سال کے دوران نجی شعبے کو 1800 ارب روپے کے قرضے فراہم کیے ہیں، جبکہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں (ایس ایم ایز) کی فنانسنگ 495 ارب روپے سے بڑھ کر 900 ارب روپے تک پہنچ گئی ہے۔

Gas Leakage Web ad 2

یہ بات پاکستان بینکس ایسوسی ایشن (پی بی اے) کے چیئرمین ظفر مسعود نے چیئرمین پاکستان بینکنگ سمٹ 2026 عاطف باجوہ اور دیگر عہدیداروں کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

صدر رجب طیب اردوان کی حمایت سے پاکستان کو ثالثی کا کردار ملا: وزیراعظم

ظفر مسعود نے بتایا کہ پاکستان بینکس ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام کراچی میں 7 اور 8 جولائی کو بینکنگ سمٹ 2026 منعقد ہوگی، جس کے افتتاحی سیشن سے وفاقی وزیر خزانہ اور گورنر اسٹیٹ بینک خطاب کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ پی آئی اے کی نجکاری بینکوں کی جانب سے 300 ارب روپے کی قرضوں کی تنظیمِ نو (ڈیٹ ری اسٹرکچرنگ) کے باعث ممکن ہوئی، جس کے نتیجے میں حکومت کا نجکاری پروگرام دوبارہ درست سمت میں آگے بڑھا۔

ظفر مسعود کا کہنا تھا کہ پاکستان بینکنگ سمٹ کا بنیادی مقصد بینکاری شعبے کو مزید مؤثر، جدید اور مستحکم بنانے کے لیے پالیسی سطح پر غور و خوض کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سمٹ میں بینکوں کی کارکردگی کا تنقیدی جائزہ بھی لیا جائے گا اور اس میں شریک تمام مقررین بذاتِ خود موجود ہوں گے، کوئی بھی مقرر آن لائن شرکت نہیں کرے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ سمٹ میں حکومت، صنعت اور تعلیمی شعبے کے نمائندوں کی بھرپور شرکت ہوگی، کیونکہ ملکی ترقی اور معاشی استحکام کے لیے ان تینوں شعبوں کے درمیان مضبوط شراکت داری ناگزیر ہے۔

چیئرمین پی بی اے نے کہا کہ ملک میں 12 سے 13 ارب روپے کی کیش اکانومی موجود ہے اور پاکستان کو بتدریج کیش لیس معیشت کی جانب بڑھنا ہوگا۔ ان کے مطابق ڈیجیٹل معیشت کے فروغ کے ذریعے پاکستان معاشی میدان میں بھی مؤثر جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

اس موقع پر پاکستان بینکس ایسوسی ایشن کے سیکریٹری منیر کمال نے بتایا کہ رواں سال بینکنگ سمٹ میں امریکا، سنگاپور، بحرین، متحدہ عرب امارات، ملائیشیا، سعودی عرب اور بیلجیئم سمیت مختلف ممالک سے 14 بین الاقوامی ماہرین شرکت کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ سمٹ میں زراعت، کاروباری قرضوں، ڈیجیٹائزیشن، جدید ادائیگی کے نظام اور کیش لیس معیشت جیسے اہم موضوعات پر تفصیلی غور کیا جائے گا، جبکہ پاکستان عالمی بینکاری تجربات سے سیکھنے اور انہیں مقامی ضروریات کے مطابق اپنانے کی کوشش کرے گا۔

چیئرمین پاکستان بینکنگ سمٹ 2026 عاطف باجوہ نے کہا کہ بینکاری شعبہ کئی برسوں سے حکومتی شراکت داری کے ذریعے مستحکم کارکردگی کا مظاہرہ کر رہا ہے۔ ان کے مطابق قرضوں، سرمایہ کاری اور مالیاتی منڈیوں میں بینکوں کا کردار نہایت اہم ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگرچہ یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ بینک غیر معمولی منافع کماتے ہیں، تاہم بینکوں کے منافع کا تقریباً 60 فیصد حصہ مختلف ٹیکسوں کی صورت میں حکومت کو ادا کیا جاتا ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ بینکاری شعبہ زراعت، ہاؤسنگ اور ایس ایم ایز کے شعبوں میں حکومت کے ساتھ مل کر مزید فعال کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔

عاطف باجوہ نے مزید کہا کہ گزشتہ سال منعقد ہونے والی بینکنگ سمٹ کے بعد حکومتی منصوبوں میں معاونت اور تعاون کے حوالے سے اہم پیش رفت دیکھنے میں آئی، جس سے بینکاری شعبے اور حکومت کے درمیان شراکت داری مزید مضبوط ہوئی ہے۔

sui northern 2
Leave A Reply

Your email address will not be published.