Gas Leakage Web ad 1

میرپور تعلیمی بورڈ کی تقسیم کیوں

ایم ڈی طاہر جرال

0

ایکشن کمیٹی کے دباؤ میں چارٹر آف ڈیمانڈ کے مغاہر انتہائی عجلت میں آزاد جموں و کشمیر تعلیمی بورڈ میرپور میں سے دو نئے بورڈز مظفرآباد اور پونچھ ڈویژن میں بنانے کا مطالبہ ڈالا گیا حالانکہ پوری تحریک عوامی ایکشن کمیٹی میں تعلیمی بورڈ میرپور کی تقسیم کا کہیں دور دور تک نام و نشان تک نہیں تھا جب حتمی مذاکرات کے لیے وفاقی وزراء جناب امیر مقام رانا ثناء اللہ اور طارق فضل چوہدری مظفرآباد تشریف لائے تو رات کی تاریکی میں ایکشن کمیٹی کے کور ممبران جن کا تعلق مظفرآباد اور پونچھ ڈویژن سے تھا نے میرپور ڈویژن کے ممبران کور کمیٹی کو اعتماد میں لئے بغیر ہی تعلیمی بورڈ کی تقسیم اور دو نئے بورڈز کا قیام ڈال دیا اتنی عجلت کیا تھی اور جوازیت کیا تھی کیا حکومت آزاد کشمیر یا وفاقی حکومت کے ترجمان وفاقی وزراء نے یہ تک پوچھنے کی زحمت گوارہ نہ کی کہ کیا دو نئے بورڈز بنانے کی جوازیت ہے اور کیا ماہرین تعلیم پر مشتمل کمیٹی قائم کی گئی ہے جس نے فیزبلیٹئ رپورٹ بنا کر دو نئے بورڈز کے قیام کی سفارش کی ہے اور آزاد کشمیر کی چالیس یا پنتالیس لاکھ کی ابادی میں تعداد طلبہ اتنی زیادہ ہے کہ دو مزید نئے بورڈز بنائے جائیں یہ وہ سوالات ہیں جن کا جواب ایکشن کمیٹی کے کور ممبران مظفرآباد پونچھ ڈویژن سے میرپور ڈویژن کے کور کمیٹی کے ممبران ہی پوچھ سکتے ہیں پاکستان کے رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑے صوبے بلوچستان میں بھی ایک ہی بورڈ ہے اور وہاں پر بھی دو علاقائی دفاتر قائم ہیں
آزاد کشمیر بورڈ کے بھی دو علاقائی دفاتر گزشتہ 15سال سے مظفرآباد اور پونچھ ڈویژن میں قائم ہیں اور ضروری تمام تر سہولیات وہاں گھر کے نزدیک طلبہ کو پہنچا رہے ہیں آج جدید ٹیکنالوجی کے دور میں آن لائن سہولیات بھی ان دفاتر میں موجود ہیں صرف مرکزیت آزاد کشمیر تعلیمی بورڈ میرپور کو حاصل ہے اب دیکھنا یہ ہے کہ آزاد کشمیر تعلیمی بورڈ میرپور کو تقسیم پہلے کیوں نہیں کیا گیا
آزاد جموں و کشمیر بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن بورڈ جیسا کہ اپنے نام سے ہی ظاہر کرتا ہے کہ یہ ادارہ پورے خطہ آزاد جموں و کشمیر کی ترجمانی کرتا ہے ابتدائی طور پر لاہور بورڈ جیسے مدر بورڈ آف آزاد جموں و کشمیر کا جاتا تھا میں سے سال 1973میں آزاد کشمیر کے لیے بورڈ قائم کرنے کا فیصلہ آزاد کشمیر کے درویش صفت زیرک سیاستدان جناب مجاہد اول سردار محمد عبد القیوم خان صدر ریاست وقت نے تعلیمی بورڈ کے قیام کے لیے قائم کمیٹی کی سفارشات کی روشنی میں میرپور میں قائم کیا اور سال 1974میں پہلا میٹرک کا امتحان لیا گیا سردار محمد عبد القیوم خان صدر ریاست تھے صدارتی نظام تھا اور دارلحکومت اس وقت بھی مظفرآباد میں واقع تھا اور یہ ادارہ مظفرآباد میں بھی قائم کیا جا سکتا تھا مگر آزاد کشمیر کی تمام اکائیوں کو باہم مربوط اور یکجتی کی فضا کو برقرار رکھنے اور تمام ڈویژن میں یگانگت رکھنے کے لیے پونچھ سے تعلق رکھنے والے صدر ریاست جو اس وقت اس ادارے کی کنٹرولنگ اتھارٹی بھی تھے نے یہ فیصلہ مستقبل کے تقاضوں کے مطابق اس ادارے کو چلانے اور قائم رکھنے کی غرض و غایت اور شفافیت کو برقرار رکھنے کے لیے کیا مگر افسوس کہ آج سے 30سال پہلے بھی اس قومی ادارے کو محض میرپور میں قائم ہونے کی وجہ سے تعصب کی بنیاد پر تقسیم کرنے کی سازشیں اور کوششیں کی گئیں جنہیں دلیل اور حقائق کی بنیاد پر جب ارباب اختیار کے نوٹس میں لایا جاتا رہا تو وزراء اعظم وقت نے تعلیمی بورڈ میرپور کی تقسیم کے عمل کو روک دیا کیونکہ نئے بورڈز کے قیام کی جوازیت ہی نہیں تھی اور کسی بھی ریاست میں ادارے بنانے کے لیے جوازیت ؤ اہمیت بنیادی فیکٹر ہیں اور کم تعداد طلباء وطالبات کو مدنظر رکھ کر میرپور بورڈ کو تقسیم نہیں کیا گیا ذرا غور کریں کہ سردار محمد عبد القیوم خان سردار سکندر حیات خان،راجہ ممتاز حسین راٹھور بیرسٹر سلطان محمود چوہدری سردار عتیق احمد خان ،سررار یعقوب خان اور چوہدری عبد المجید راجہ فاروق حیدر خان وزرائے اعظم وقت نے نئے بورڈز بنانے کی جوازیت سے کیوں اتفاق نہیں کیا اور انہوں نے طلباء و طالبات کو اساتذہ اور والدین کو سہولیات فراہم کرنے کے لیے راولاکوٹ اور مظفرآباد میں دو نئے بورڈز کیوں نہیں بنائے اور بورڈز کی بجائے وہاں علاقائی دفاتر جن میں ضروری تمام سہولیات موجود تھیں قائم کرنے کی ضرورت پر زور دیا جو قائم کئے گئے جو آج تک اپنی بہترین سروسز دے رہے ہیں تو پھر ایکشن کمیٹی کے مطالبات کی فہرست میں دو نئے بورڈز بنانے کا مطالبہ سرے سے موجود ہی نہیں تھا صرف ایک فیکٹر کام کر رہا تھا وہ تھا ایکشن کمیٹی کا دباؤ چونکہ ایکشن کمیٹی کے احتجاج کے دوران جانی نقصان ہوا تھا اور وفاقی حکومت نہیں چاہتی تھی کہ آزاد کشمیر کی صورتحال خراب ہو اور مزید خون خرابے کی وجہ سے تحریک آزادی کشمیر پر منفی اثرات مرتب ہوں اور بھارت کو غلیظ پروپیگنڈے کا موقع ملے
لہذا اس وقت وفاقی وزراء نے اصولی طور پر دو نئے بورڈز کے قیام کے مطالبے کو تسلیم کر لیا حکومت آزاد کشمیر نے اس کے لیے ھوم ورک مکمل کیا کیا کوئی ایسی ماہرین تعلیم تینوں ڈویژن سے بنائی گئی جس نے دو نئے بورڈز بنانے کی جوازیت کی سفارش کی ہر گز نہیں
قارئین محترم ایک پرائمری اسکول قائم کرنے کے لیے بھی مکمل جوازیت دی جاتی ہے اور اس کے لیے بھی محکمانہ کاروائی مکمل کی جاتی ہے مگر تعلیمی بورڈ جو کہ اپنے انفراسٹرکچر کے اعتبار سے انتہائی اہمیت کا حامل ادارہ ہے اور اس کی تشکیل میں اربوں روپے کا بجٹ بھی صرف ہوتا ہے کے لیے وہ تمام تقاضے بھی پورے نہیں کیے گئے اب دو نئے بورڈز بنانے کا نوٹیفکیشن جاری کرنے کے بعد ، آزاد جموں و کشمیر تعلیمی بورڈ میرپور کے اثاثوں کو تقسیم کرنے کے لیے بھی کمیٹی بنا دی گئی ہے جو کہ مکمل طور پر فضول مشق ہے کیونکہ اس حکومت آزاد کشمیر کی معیاد محض چند ماہ ہی ہے اور اگر صدر ریاست کے انتقال کے بعد قانونی تقاضوں کے مطابق نئے صدر ریاست کا انتخاب بھی محض اس وجہ سے نہیں ہوا کہ یہ مینڈیٹ بھی نئی اسمبلی کا ہے تو ایسی کیا وجہ ہے کہ دو نئے بورڈز بنانے کے لیے چند ماہ کی حکومت اپنے ذمہ تعلیمی بورڈ میرپور کی تقسیم کا داغ کیوں لگانا چاہتی ہے
آزاد کشمیر کی ابادی بھی کم تعداد طلباء بھی کم تو پھر 3بورڈ بنانے کی جوازیت ایکشن کمیٹی یا حکومت وقت بتا سکتی ہے اور کیا بورڈ بنانے کے لیے ماہرین پر مشتمل کمیٹی قائم کی گئی اور اس کی سفارشات حاصل کی گئیں
او دیکھا نہ تاؤ محض دباؤ میں کیا جانے والا فیصلہ طلباء و طالبات پر فیسوں کی مد میں مزید بوجھ بنے گا کیونکہ تعلیمی بورڈ سلیف فنانسنگ ادارہ ہے آزاد کشمیر حکومت اس کو پائی پیسے کی گرانٹ نہیں دیتی
تین تعلیمی بورڈز کا قیام محض نوکریاں پیدا کرنے اور اپنے لوگوں کو بھرتی کرنے کا ذریعہ ہے یہ بچوں اور آزاد کشمیر حکومت پر مزید بوجھ کے سوا کچھ نہ دے گا۔ اگر میرٹ پر آسانیاں ہی پیدا کرنی ہیں تو موجودہ بورڈ میں سے موجود ہر ضلع کے پانچ تا دس ملازمین کو ٹرانسفر کر کے ضلعی دفاتر قائم کر کے بچوں کو بلکل لوکل لیول پر سہولتیں دی جاہیں ۔ جدید انفارمیشن ٹیکنالوجی کے اس دور میں یہ آن لائن ہو سکتا ہے ۔ہر ضلعی دفاتر میں ان ملازمین کو ٹیکنالوجی کی سہولتوں مہیا کر کے بچوں اور ریاست کو ان دو نئے بورڈز کے بوجھ سے بچایا جائے، ھم وزیر اعظم پاکستان محمد شہباز شریف سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ دو نئے بورڈز بنانے کے فیصلے پر نظر ثانی کرنے کے لیے وفاقی وزراء جنہوں نے ایکشن کمیٹی سے مزاکرات کیے سے نئے بورڈز بنانے کی جوازیت بھی دریافت کریں اور اگر انتظامی طور پر نئے بورڈز کا قیام انتہائی ضروری ہے تو پھر ماہرین تعلیم پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی جائے جو مکمل جائزہ لے کر اپنی رپورٹ پیش کرے پھر اچھا فیصلہ ہونے کی توقع کی جا سکتی ہے ورنہ عجلت صرف پچھتاوا اور فیصل ممتاز راٹھور کی حکومت کی بدنامی کا سبب بنے گا
سوچئے پھر سوچئے کہیں پچھتاوا نہ ہو
اور پھر کہیں کہ اب پچھتائے کیا ہوت جب چڑیاں چگ گئیں کھیت

sui northern 2
Leave A Reply

Your email address will not be published.