Gas Leakage Web ad 1

کامن ویلتھ گیمز 2026: پاکستان کی شرکت، قومی وقار یا محض نمائشی موجودگی؟

حرفِ محتاط / ملک خالد ضمیر

0

کھیل صرف تمغوں کی دوڑ نہیں ہوتے، بلکہ قوموں کے وژن، منصوبہ بندی، گورننس، سرمایہ کاری اور مستقبل کی تیاری کا آئینہ بھی ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کامن ویلتھ گیمز اور اولمپکس جیسے عالمی مقابلے صرف کھیل کے میدان تک محدود نہیں رہتے بلکہ ہر ملک کے کھیلوں کے نظام، انتظامی صلاحیت اور قومی ترجیحات کا بھی امتحان ہوتے ہیں۔

Gas Leakage Web ad 2

2026 کے کامن ویلتھ گیمز اسکاٹ لینڈ کے شہر گلاسگو میں منعقد ہونے جا رہے ہیں جہاں 74 کامن ویلتھ ممالک اور ٹیریٹریز شرکت کریں گے۔ محدود کھیلوں کے باوجود دنیا بھر سے ہزاروں کھلاڑی اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کریں گے اور ہر ملک کی نظریں تمغوں اور عالمی وقار پر مرکوز ہوں گی۔

اگر جنوبی ایشیا پر نظر ڈالیں تو ایک دلچسپ اور معنی خیز تصویر سامنے آتی ہے۔

بھارت تقریباً 191 رکنی وفد کے ساتھ شریک ہو رہا ہے، جس میں 126 ایتھلیٹس شامل ہیں۔

سری لنکا کا 54 رکنی سرکاری وفد گلاسگو پہنچے گا، جس میں 40 ایتھلیٹس (27 مرد، 13 خواتین) اور 14 کھیلوں کے آفیشلز شامل ہیں۔

پاکستان کا کل وفد 36 افراد پر مشتمل ہے، جن میں صرف 15 ایتھلیٹس شامل ہیں جبکہ باقی کوچز اور آفیشلز ہیں۔

بنگلہ دیش تقریباً 35 رکنی وفد کے ساتھ شریک ہوگا، جس میں 15 ایتھلیٹس شامل ہیں۔

یہ اعداد و شمار ایک بنیادی سوال اٹھاتے ہیں۔ کیا 24 کروڑ سے زائد آبادی رکھنے والے پاکستان کے لیے صرف 15 ایتھلیٹس پر مشتمل ٹیم قابلِ اطمینان ہے؟ کیا یہ ہماری حقیقی کھیلوں کی طاقت کی عکاسی کرتی ہے یا صرف عالمی سطح پر موجودگی برقرار رکھنے کی ایک رسمی کوشش ہے؟

2022 کے برمنگھم کامن ویلتھ گیمز میں پاکستان نے 8 تمغے حاصل کیے تھے، جن میں 2 طلائی، 3 چاندی اور 3 کانسی کے تمغے شامل تھے۔ ان کامیابیوں کا روشن ترین ستارہ ارشد ندیم تھے، جنہوں نے جیولن تھرو میں طلائی تمغہ جیت کر پاکستان کے لیے نئی تاریخ رقم کی۔

اب ایک بار پھر تمام نظریں ارشد ندیم پر مرکوز ہیں۔ کیا وہ اپنے اعزاز کا کامیابی سے دفاع کر سکیں گے؟ عالمی سطح پر اعزاز برقرار رکھنا ہمیشہ پہلی کامیابی سے زیادہ مشکل ہوتا ہے۔ اس کے لیے مسلسل بین الاقوامی مقابلے، جدید کوچنگ، کھیلوں کی سائنس، طبی معاونت اور مضبوط ادارہ جاتی حمایت ناگزیر ہوتی ہے۔

دوسری جانب بھارت کے لیے بھی یہ گیمز غیر معمولی اہمیت رکھتے ہیں۔ 2022 کے کامن ویلتھ گیمز میں بھارت نے مجموعی طور پر 61 تمغے (22 طلائی، 16 چاندی اور 23 کانسی) جیتے تھے اور تمغوں کی جدول میں نمایاں مقام حاصل کیا تھا۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا بھارت اپنی اس شاندار روایت کو برقرار رکھ سکے گا اور ایک مرتبہ پھر جنوبی ایشیا کی سب سے کامیاب ٹیم ثابت ہوگا؟

بھارت کی دلچسپی صرف تمغوں تک محدود نہیں۔ وہ 2030 کے کامن ویلتھ گیمز کی میزبانی کے لیے بھی ایک مضبوط امیدوار کے طور پر سامنے آ رہا ہے۔ اگر یہ میزبانی اسے ملتی ہے تو یقیناً وہ اپنی کھیلوں کی ترقی، انفراسٹرکچر اور عالمی اثر و رسوخ کو مزید مضبوط بنانے کی کوشش کرے گا۔

پاکستان کے لیے ایک اور بڑا امتحان زیادہ دور نہیں۔ مارچ 2027 میں جنوبی ایشیائی کھیل (South Asian Games) پاکستان میں منعقد ہونے کی توقع ہے، جہاں آٹھ ممالک اور 3,500 سے زائد کھلاڑی شرکت کریں گے۔ یہ ایونٹ صرف کھیلوں کا مقابلہ نہیں بلکہ پاکستان کی انتظامی صلاحیت، اسپورٹس گورننس، انفراسٹرکچر، سیکیورٹی، اینٹی ڈوپنگ نظام اور بین الاقوامی ساکھ کا عملی امتحان ہوگا۔

یہ سوال بھی اپنی جگہ اہم ہے کہ کیا 2026 کے کامن ویلتھ گیمز پاکستان کے لیے 2027 کے جنوبی ایشیائی کھیلوں کا ریہرسل (Demo Day) ثابت ہوں گے؟ کیا محدود وفد کے باوجود پاکستان اپنی انتظامی صلاحیت، کھلاڑیوں کی تیاری اور کھیلوں کے وژن کا ایسا مظاہرہ کر سکے گا جو اگلے سال ہونے والے جنوبی ایشیائی کھیلوں کے کامیاب انعقاد کا اعتماد پیدا کرے؟

اگر پاکستان واقعی ایک مضبوط اسپورٹس نیشن بننا چاہتا ہے تو صرف اسٹیڈیم تعمیر کرنا کافی نہیں ہوگا۔ شفاف گورننس، میرٹ پر مبنی انتخاب، جدید کوچنگ، کھیلوں کی سائنس، نوجوان ٹیلنٹ کی بروقت نشاندہی، عالمی معیار کے اینٹی ڈوپنگ نظام اور طویل المدتی قومی اسپورٹس پالیسی کے بغیر مستقل کامیابیاں حاصل نہیں کی جا سکتیں۔

آخر میں سوال پھر وہی رہ جاتا ہے: کیا پاکستان عالمی کھیلوں میں صرف اپنی موجودگی درج کرانے جا رہا ہے، یا واقعی ایک ایسی کھیلوں کی طاقت بننے کی طرف بڑھ رہا ہے جو ہر چار سال بعد نئے چیمپئن پیدا کرے؟

قومیں صرف ہیروز کا انتظار نہیں کرتیں، بلکہ ایسے ادارے تشکیل دیتی ہیں جو ہر نسل میں نئے ہیرو پیدا کرتے ہیں۔ اگر پاکستان نے اس موقع کو اصلاحات، شفافیت، میرٹ اور منصوبہ بندی کے لیے استعمال کیا تو کامن ویلتھ گیمز 2026 اور جنوبی ایشیائی کھیل 2027 محض کھیلوں کے مقابلے نہیں بلکہ پاکستان کے اسپورٹس نظام کی نئی بنیاد ثابت ہو سکتے ہیں۔

sui northern 2
Leave A Reply

Your email address will not be published.