یہ کہانی ایک عجیب تضاد سے شروع ہوتی ہے۔ دنیا کے سب سے طاقتور ملک کا صدر، وائٹ ہاؤس کے لان میں کھڑا ہو کر، پاکستان کے آرمی چیف کو "فینٹاسٹک پرسن” کہہ رہا ہے، اسلام آباد کو نوبل پیس پرائز کے لیے نامزدگی بھجوائی جا رہی ہے، دنیا کے اخبارات پاکستان کو "ان لائیکلی پیس بروکر” کے خطاب سے نواز رہے ہیں، اور اسی وقت، اسی شہر کی اسی سڑک پر، ایک موٹر سائیکل سوار پٹرول پمپ پر کھڑا حساب لگا رہا ہے کہ تین سو دس روپے لیٹر میں آج کتنا تیل ڈلوائے کہ گھر بھی پہنچ جائے اور جیب میں کچھ بچ بھی جائے۔ یہ دونوں مناظر ایک ہی ملک کے، ایک ہی وقت کے، ایک ہی حکومت کے تحت رونما ہو رہے ہیں، اور یہی وہ تضاد ہے جو آج کے پاکستان کی اصل کہانی ہے۔
بات شروع کرتے ہیں سفارتی کامیابی سے، کیونکہ یہ واقعی ایک قابلِ ذکر کہانی ہے۔ فروری 2026 میں امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر جنگ مسلط کی، سو دن سے زائد جاری رہنے والی اس جنگ نے پورے مشرقِ وسطیٰ کو ہلا کر رکھ دیا، عالمی توانائی منڈی درہم برہم ہو گئی، اور ایسے میں پاکستان نے وہ کردار ادا کیا جو گزشتہ پانچ دہائیوں میں کوئی بڑی طاقت، کوئی بڑا عالمی ادارہ نہ کر سکا تھا۔ اسلام آباد میں گیارہ اور بارہ اپریل کو وہ ملاقات ہوئی جو 1979 کے بعد امریکہ اور ایران کے درمیان پہلی براہِ راست، اعلیٰ سطحی بات چیت تھی۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس، خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کی سربراہی میں تین سو رکنی وفد، اور دوسری طرف ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف اور وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کی قیادت میں ستر رکنی وفد، اکیس گھنٹے تک اسلام آباد میں مذاکرات کی میز پر بیٹھے رہے۔ پہلا دور بغیر کسی نتیجے کے ختم ہوا، لیکن یہ آغاز تھا اس عمل کا جسے بعد میں "اسلام آباد پراسیس” کا نام دیا گیا۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر نے، ٹرمپ کی جانب سے حملے کی ڈیڈ لائن ختم ہونے سے چند گھنٹے پہلے، امریکی حکام کو فون کالز کا سلسلہ شروع کیا، جس کے نتیجے میں آٹھ اپریل کو دو ہفتوں کی جنگ بندی طے پائی۔ یہ جنگ بندی کئی بار ٹوٹتے ٹوٹتے بچی، لیکن پاکستانی سفارت کاروں نے، خاص طور پر نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار نے، واشنگٹن اور تہران کے درمیان مسلسل شٹل ڈپلومیسی جاری رکھی۔ سعودی عرب، ترکی، قطر اور مصر کے ساتھ مل کر، بغیر کسی بڑے اعلان کے، پس پردہ کام جاری رہا، یہاں تک کہ جون میں شہباز شریف نے ٹوئٹر پر یہ خوشخبری سنائی کہ امریکہ اور ایران کے درمیان حتمی متن پر اتفاق ہو گیا ہے۔ سترہ جون کو امریکہ نے چودہ نکاتی معاہدے کا مکمل متن جاری کیا، اور بعد میں سوئٹزرلینڈ میں لیک لوسرن سمٹ میں، پاکستان اور قطر کی معاونت سے، اس معاہدے پر عمل درآمد کے طریقہ کار پر بات چیت آگے بڑھی۔
اب سوال یہ ہے کہ پاکستان یہ کردار کیوں ادا کر پایا؟ اس کا جواب پاکستان کے محلِ وقوع میں چھپا ہے۔ ایک طرف سعودی عرب کے ساتھ اسٹریٹجک دفاعی معاہدہ، دوسری طرف ایران کے ساتھ پانچ سو ساٹھ میل طویل سرحد اور مذہبی و ثقافتی رشتے، تیسری طرف امریکہ کے ساتھ دیرینہ فوجی تعلقات، اور چوتھی طرف چین کے ساتھ گہری اسٹریٹجک شراکت داری۔ یہ وہ چار کونے ہیں جن پر کوئی اور ملک بیک وقت کھڑا نہیں ہو سکتا تھا۔ لیکن اس کامیابی کے پیچھے صرف جغرافیہ نہیں، پاکستان کی اپنی مجبوری بھی تھی، اور یہی وہ نکتہ ہے جسے عام تجزیوں میں کم بیان کیا جاتا ہے۔ پاکستان کی معیشت پہلے ہی سنبھلنے کی کوشش میں تھی، مہنگائی کی شرح بلند تھی، اور طویل جنگ کا مطلب تھا مزید مہنگا تیل، خلیجی ممالک سے آنے والی ترسیلاتِ زر میں کمی، اور لاکھوں پاکستانی مزدوروں کی روزی روٹی پر خطرہ۔ عالمی بینک کے مطابق مشرقِ وسطیٰ کی معیشت کی شرح نمو کا تخمینہ 2026 میں کم کر کے صرف ایک اعشاریہ آٹھ فیصد رہ گیا، یعنی پاکستان کے لیے یہ ثالثی محض سفارتی وقار کا معاملہ نہیں تھی، یہ معاشی بقا کی جنگ تھی۔ اسی لیے وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار اکتیس مارچ کو بیجنگ گئے، چین کے ساتھ مل کر پانچ نکاتی امن منصوبہ پیش کیا، اور اسی مہینے پاکستان نے امریکہ کو ایران کی جانب سے پندرہ نکاتی تجویز پہنچائی۔
یہاں ایک اور دلچسپ پہلو ہے۔ پاکستان نے اس پورے عمل میں ٹرمپ کی نفسیات کو بھی بخوبی پڑھا۔ ٹرمپ کو نوبل انعام کے لیے نامزد کیا گیا، ٹرمپ کے "بورڈ آف پیس” میں شمولیت اختیار کی گئی، پاکستان کے تیل کے ذخائر کی تلاش کے لیے امریکہ کے ساتھ معاہدہ ہوا، اور ٹرمپ کے کرپٹو پلیٹ فارم ورلڈ لبرٹی فنانشل کے ساتھ اشتراک بھی سامنے آیا۔ سابق سینیٹر مشاہد حسین سید نے واشنگٹن پوسٹ کو بتایا تھا کہ "ہم نے اسے صحیح طریقے سے پڑھا”، اور یہ جملہ اس پوری حکمتِ عملی کا نچوڑ ہے۔ ایک دہائی پہلے جس ٹرمپ نے پاکستان پر "جھوٹ اور فریب” کا الزام لگایا تھا، آج وہی ٹرمپ فیلڈ مارشل عاصم منیر کو وائٹ ہاؤس میں تنہا مدعو کر کے دوپہر کا کھانا کھلا رہا ہے۔ یہ سفارتی یوٹرن اتنا بڑا ہے کہ خود پاکستانی سفارت کار بھی حیران ہیں۔
لیکن اس کامیابی کو بغیر تنقید کے پیش کرنا بھی زیادتی ہو گی۔ امریکی سینیٹر لنڈزے گراہم نے کھل کر کہا کہ وہ پاکستان پر بھروسہ نہیں کرتے، اور اسرائیل کے حوالے سے پاکستان کے موقف کو "پرابلیمیٹک” قرار دیا۔ چیتھم ہاؤس کے تجزیہ کار چیتگج باج پائی کا کہنا ہے کہ چونکہ پاکستان کے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات ہی نہیں، اس لیے اس کی ثالثی کی گنجائش محدود بھی رہی۔ خود سٹمسن سینٹر کے تجزیے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ پاکستان کی اپنی سیاسی کمزوریاں، خاص طور پر عمران خان کی رہائی کے مطالبے اور امریکی حلقوں میں پاکستانی حزبِ اختلاف سے رابطوں نے، اس ثالثی کے آغاز کو مشکل بنایا تھا۔ یعنی یہ کہانی اتنی سادہ نہیں جتنی سرکاری بیانیے میں پیش کی جاتی ہے، لیکن اس کے باوجود، حقیقت یہ ہے کہ پاکستان نے وہ کر دکھایا جو افغانستان سے سوویت انخلا اور نکسن کے دورۂ چین کے بعد شاید پہلی بار ممکن ہوا۔
اب آتے ہیں اس تضاد کی دوسری طرف، اور یہاں سے کالم کا لہجہ بدلنا پڑتا ہے، کیونکہ سفارتی فتح کی چمک دمک میں عام آدمی کا چہرہ گم ہو جاتا ہے۔ گیارہ جولائی 2026 کو، یعنی عین اسی ہفتے جب دنیا پاکستان کی سفارتی مہارت کے گن گا رہی تھی، پیٹرولیم ڈویژن نے پٹرول کی قیمت میں تیرہ روپے اٹھارہ پیسے فی لیٹر اضافے کا نوٹیفکیشن جاری کیا۔ پٹرول دو سو ننانوے روپے اٹھہتر پیسے سے بڑھ کر تین سو دس روپے اکہتر پیسے فی لیٹر ہو گیا، ڈیزل تین سو گیارہ روپے اٹھہتر پیسے سے بڑھ کر تین سو تئیس روپے تیس پیسے فی لیٹر پہنچ گیا۔ یاد رہے کہ اس سے صرف ایک ہفتہ پہلے، چار جولائی کو، حکومت نے پٹرول کی قیمت میں معمولی سی کمی کر کے یہ تاثر دینے کی کوشش کی تھی کہ عوام کو ریلیف مل رہا ہے۔ ایک ہفتے کی معمولی کمی، اور اگلے ہفتے تیرہ روپے کا جھٹکا، یہ وہ کھیل ہے جو پچھلے کئی برسوں سے ہر حکومت کھیلتی آئی ہے۔ عوام کو ایک روپے کا لالی پاپ دو، اور اگلے ہفتے دس روپے کی چھری چلا دو۔
پٹرول کی قیمت میں یہ اضافہ اپنی جگہ ایک آزاد واقعہ نہیں، یہ پوری معیشت کے اندر ایک زنجیر کی مانند حرکت کرتا ہے۔ ٹرانسپورٹ کا کرایہ بڑھتا ہے، سبزی، پھل، دودھ، گوشت، ہر چیز کی نقل و حمل کی لاگت بڑھتی ہے، اور یہ بوجھ آخرکار اس شخص کے کندھوں پر آ گرتا ہے جو نہ گاڑی کا مالک ہے، نہ فیکٹری کا، صرف روزانہ کی مزدوری پر گزارا کرنے والا ایک عام پاکستانی۔ ادارہ شماریات کے تازہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ جون 2026 میں مہنگائی کی شرح گیارہ اعشاریہ ایک فیصد رہی، جو مئی کے گیارہ اعشاریہ سات فیصد سے قدرے کم ضرور ہے، لیکن یہ کمی خوش فہمی کا سامان نہیں بن سکتی، کیونکہ اسٹیٹ بینک کا ہدف پانچ سے سات فیصد ہے، اور حقیقت اس ہدف سے دگنی سے بھی زیادہ اونچی چل رہی ہے۔ اپریل میں ٹرانسپورٹ کی مہنگائی انتیس اعشاریہ نو فیصد تک جا پہنچی تھی، مکانات اور بجلی گیس کی مد میں اضافہ سولہ اعشاریہ آٹھ فیصد تک پہنچا، اور جون میں خوراک کی مہنگائی نو اعشاریہ چار فیصد تک بڑھ گئی، جو اپریل 2024 کے بعد کی بلند ترین سطح ہے۔ یعنی جس مہینے میں پاکستان دنیا کے سامنے امن کے سفیر کے طور پر متعارف ہو رہا تھا، اسی مہینے میں پاکستانی گھرانوں کی روٹی کا نوالہ مزید مہنگا ہو رہا تھا۔
اب بجلی اور گیس کی کہانی سنیے، جو شاید پٹرول سے بھی زیادہ تلخ ہے۔ مئی 2026 کی فیول کاسٹ ایڈجسٹمنٹ کے تحت نیپرا نے بجلی کی قیمت میں تینتیس پیسے فی یونٹ اضافے کا نوٹیفکیشن جاری کیا، جس کا اطلاق جولائی کے بلوں میں کیا جائے گا، اور اس میں کے الیکٹرک کے صارفین بھی شامل ہیں۔ یہ اضافہ چھوٹا لگتا ہے، لیکن اصل کہانی فکسڈ چارجز کی ہے۔ ایکسپریس اخبار کے ایک تجزیے میں یہ بات سامنے آئی کہ بجلی کے بلوں میں فکسڈ چارجز جو پہلے بل کے تین یا چار فیصد ہوا کرتے تھے، اب بڑھ کر بل کے دس فیصد تک پہنچا دیے گئے ہیں، یعنی دگنے سے بھی زیادہ۔ یہ وہ رقم ہے جو صارف کو ادا کرنی پڑتی ہے چاہے اس نے ایک یونٹ بجلی استعمال کی ہو یا سو، اور اسی طرح گیس پر بھی فکسڈ چارجز پہلے سے نافذ ہیں۔ عوام نے گیس پر فکسڈ چارجز کی مزاحمت نہیں کی، اور اسی خاموشی نے حکومت کو حوصلہ دیا کہ وہی ماڈل بجلی پر بھی لاگو کر دیا جائے۔ یہ ایک ایسی مثال ہے جو یہ سکھاتی ہے کہ حکومتی پالیسی سازی میں عوامی خاموشی کو رعایت نہیں بلکہ اجازت نامہ سمجھا جاتا ہے۔
اپریل میں پٹرول کی قیمت میں ڈیڑھ سو روپے فی لیٹر تک کا اضافہ ہوا تھا، اور بعد میں عالمی منڈی میں تیل سستا ہونے پر صرف اسّی روپے کی کمی کی گئی، یعنی ستر روپے فی لیٹر کا بوجھ مستقل طور پر عوام پر ڈال دیا گیا، اور اسے حکومت نے "ریلیف” کے طور پر پیش کیا۔ یہ وہی حساب کتاب ہے جو پاکستانی معیشت کی پہچان بن چکا ہے: نقصان مکمل طور پر منتقل کرو، فائدہ جزوی طور پر واپس کرو، اور دونوں کو "قربانی” اور "ریلیف” کے خوبصورت الفاظ میں لپیٹ دو۔
اب ذرا اس کہانی کو تھوڑا وسیع تناظر میں دیکھتے ہیں۔ پاکستان کا المیہ یہ ہے کہ اس کی معیشت کا انحصار درآمدی توانائی پر اس قدر زیادہ ہے کہ خطے میں کوئی بھی کشیدگی سیدھا براہِ راست عام آدمی کی جیب پر اثرانداز ہوتی ہے۔ ایران اسرائیل جنگ کے دوران جب آبنائے ہرمز کی بندش کا خطرہ پیدا ہوا تو خام تیل کی عالمی قیمتیں آسمان کو چھونے لگیں، اور پاکستان جیسے ممالک، جو اپنی ضرورت کا بیشتر تیل باہر سے منگواتے ہیں، سب سے زیادہ متاثر ہوئے۔ یہی وجہ ہے کہ وزارتِ خزانہ کی ماہانہ رپورٹ میں یہ تسلیم کیا گیا کہ اپریل میں مہنگائی کی شرح میں تیزی سے اضافے کی بنیادی وجہ توانائی اور نقل و حمل کے شعبے میں اضافہ تھا، جو جاری جغرافیائی و سیاسی کشیدگی کے باعث تیل کی بڑھتی قیمتوں سے جڑا تھا۔ اب جبکہ جنگ بندی ہو چکی ہے اور کشیدگی کسی حد تک کم ہوئی ہے، وزارتِ خزانہ کو امید ہے کہ درآمدی مہنگائی کا دباؤ کم ہو گا، لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ جس ہفتے یہ امید ظاہر کی گئی، عین اسی ہفتے پٹرول کی قیمت میں تیرہ روپے کا اضافہ کر دیا گیا۔ یعنی زبانی دعوے اور عملی فیصلے ایک دوسرے سے مطابقت ہی نہیں رکھتے۔
یہاں ایک بنیادی سوال جنم لیتا ہے، اور یہ سوال ہر پاکستانی کے ذہن میں کلبلاتا ہے: اگر پاکستان اتنا بڑا سفارتی کارنامہ سرانجام دے سکتا ہے کہ دنیا کی دو متحارب سپر پاورز کو ایک میز پر بٹھا سکتا ہے، تو وہی صلاحیت، وہی حکمتِ عملی، اپنے عوام کی معاشی مشکلات حل کرنے میں کیوں بروئے کار نہیں لائی جاتی؟ آخر وہی ذہانت جو ٹرمپ کی نفسیات پڑھ سکتی ہے، وہی حکمتِ عملی جو ایران اور امریکہ کے درمیان چودہ نکاتی معاہدہ کروا سکتی ہے، آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات میں عوام دوست شرائط کیوں حاصل نہیں کر پاتی؟ یہ وہ سوال ہے جس کا جواب حکومتی ترجمان کبھی نہیں دیتے، کیونکہ اس کا جواب دینا ان کی اپنی کارکردگی پر سوالیہ نشان کھڑا کر دیتا ہے۔
اصل مسئلہ یہ ہے کہ سفارت کاری میں پاکستان کو ایک "قدرتی محلِ وقوع” کا فائدہ حاصل ہے، جسے استعمال کرنے کے لیے صرف بروقت فیصلے اور رابطے کافی ہوتے ہیں۔ لیکن معیشت کی اصلاح ایک مختلف چیلنج ہے، اس میں طویل المدتی اصلاحات درکار ہیں: ٹیکس نظام میں انصاف، بجلی کے شعبے میں گردشی قرضے کا خاتمہ، توانائی کی پیداوار میں سستے ذرائع کی طرف منتقلی، اور سب سے بڑھ کر، اشرافیہ کی مراعات میں کمی۔ یہی وہ نکتہ ہے جہاں حکومتیں ہمیشہ پیچھے ہٹتی ہیں، کیونکہ سفارتی کامیابی کی تصویر بنانا آسان ہے، لیکن اپنے طبقے کی مراعات میں کٹوتی کرنا سیاسی طور پر مہنگا سودا ہے۔
واپڈا اور بجلی کے شعبے کی کہانی اس ناانصافی کی سب سے واضح مثال ہے۔ ایک طرف بی پی ایس سترہ اور اس سے اوپر کے سرکاری افسران کو مفت بجلی یونٹس کی بجائے نقد مانیٹائزیشن الاؤنس دیا جاتا ہے، جبکہ نچلے درجے کے ملازمین کو اب بھی محدود مفت یونٹس ملتے ہیں، مگر عام صارف کے لیے نہ کوئی مانیٹائزیشن ہے نہ رعایت، صرف بڑھتے ہوئے فکسڈ چارجز اور فیول ایڈجسٹمنٹ کی مسلسل مار۔ بجلی کی پیداواری صلاحیت رواں مالی سال میں بڑھ کر انچاس ہزار چھ سو اکاون میگاواٹ تک پہنچ گئی، مگر اس اضافی صلاحیت کا فائدہ عام صارف تک کیوں نہیں پہنچتا؟ کیونکہ نظام کی بنیادی خرابی پیداوار میں نہیں، تقسیم کے نظام میں ہے: لائن لاسز، بجلی چوری، اور مہنگے معاہدوں کے تحت آزاد پاور پروڈیوسرز کو دی جانے والی کیپیسٹی پیمنٹس، وہ بوجھ ہیں جو بالآخر عام بل کی صورت میں گھر گھر پہنچتے ہیں۔
یہاں یہ بات بھی تسلیم کرنی چاہیے کہ حکومت نے کچھ مواقع پر بروقت اقدامات کر کے بڑے اضافے کو ٹالا بھی ہے۔ پاور ڈویژن کے مطابق اپریل کی ماہانہ ایڈجسٹمنٹ میں ممکنہ پانچ سے چھ روپے فی یونٹ اضافے کو روکا گیا، اور سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کے ذریعے صارفین کو مجموعی طور پر چھیالیس ارب روپے کا خالص ریلیف بھی دیا گیا۔ یعنی تصویر مکمل طور پر سیاہ نہیں، مگر جس رفتار سے ریلیف دیا جاتا ہے، اس سے کہیں زیادہ تیزی سے نئے بوجھ ڈال دیے جاتے ہیں، اور یہی عدم توازن عوام کی مایوسی کی اصل وجہ ہے۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس سارے منظرنامے میں عام پاکستانی کہاں کھڑا ہے؟ وہ صبح اٹھتا ہے، اخبار میں پڑھتا ہے کہ اس کے ملک نے دنیا میں امن قائم کرنے میں کردار ادا کیا، وہ فخر بھی محسوس کرتا ہے، لیکن اسی اخبار کے دوسرے صفحے پر وہ یہ بھی پڑھتا ہے کہ پٹرول تیرہ روپے مہنگا ہو گیا، بجلی کا بل بڑھ گیا، آٹا، دال، سبزی سب کچھ مزید مہنگا ہو گیا۔ یہ دوہرا احساس، فخر اور اذیت کا امتزاج، آج کے پاکستانی کی نفسیاتی حالت کی درست عکاسی کرتا ہے۔ وہ اپنے ملک کو دنیا کے نقشے پر ابھرتا دیکھ کر خوش بھی ہوتا ہے اور اپنی جیب خالی ہوتی دیکھ کر پریشان بھی۔
یہ تضاد دراصل پاکستان کی حکمرانی کے ڈھانچے کی عکاسی کرتا ہے۔ خارجہ پالیسی اور سلامتی کے معاملات میں فیصلہ سازی چند مضبوط اداروں کے ہاتھ میں مرکوز ہے، جہاں سمت کا تعین جلد ہوتا ہے اور عملدرآمد تیز ہوتا ہے۔ لیکن معاشی پالیسی سازی کئی مختلف مفادات کے درمیان الجھی ہوئی ہے: آئی ایم ایف کی شرائط، بجلی کمپنیوں کے معاہدے، ٹیکس چوری کرنے والے طبقات کا اثر و رسوخ، اور مقامی سیاسی مصلحتیں۔ اسی وجہ سے سفارتی میدان میں تیزی اور معاشی میدان میں سست روی، دونوں ایک ہی حکومت کی دو مختلف تصویریں بن جاتی ہیں۔
اب اگر امید کی بات کی جائے تو وہ بھی موجود ہے۔ ترسیلاتِ زر مئی 2026 میں چار اعشاریہ پچیس ارب ڈالر کی ریکارڈ سطح پر پہنچیں، آئی ٹی برآمدات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، زرِ مبادلہ کے ذخائر میں بہتری آئی ہے، اور جنگ بندی کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نرمی سے درآمدی بل میں کمی کی توقع ہے۔ یہی وہ لمحہ ہے جہاں پاکستان کے پاس ایک نادر موقع موجود ہے: اگر خطے میں امن برقرار رہتا ہے، تو تیل کی قیمتیں مستحکم رہیں گی، خلیجی ممالک میں تعمیراتی اور صحت کے شعبوں میں پاکستانی مزدوروں کی طلب بڑھے گی، اور معیشت کو سانس لینے کی مہلت مل سکتی ہے۔ مگر یہ موقع خودبخود ثمر آور نہیں ہو گا، اسے حکومتی سنجیدگی، توانائی کے شعبے میں اصلاحات، اور ٹیکس کے منصفانہ نظام سے جوڑنا ہو گا۔
آخر میں، یہ کالم کسی مایوسی پر ختم نہیں ہونا چاہیے، کیونکہ پاکستان کی تاریخ یہی سکھاتی ہے کہ یہ قوم بحرانوں سے نکلنے کا ہنر جانتی ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا حکومت اس ہنر کو محض بحران کے وقت استعمال کرے گی، یا اسے مستقل پالیسی کا حصہ بنائے گی؟ کیا وہی سفارتی مہارت جو اسلام آباد کو عالمی امن کا مرکز بنا سکتی ہے، وہی مہارت گیس اور بجلی کے فکسڈ چارجز کم کرنے، آئی پی پیز کے معاہدے نظرِ ثانی کرنے، اور ٹیکس چوروں کو قانون کے دائرے میں لانے کے لیے بھی استعمال ہو گی؟ اگر جواب ہاں میں ہے، تو پاکستان واقعی وہ ملک بن سکتا ہے جو دنیا کو امن دیتا ہے اور اپنے عوام کو سکون بھی۔ اگر جواب نہیں میں ہے، تو یہ نوبل نامزدگیاں اور عالمی تعریفیں محض اخباری سرخیاں بن کر رہ جائیں گی، اور عام پاکستانی اسی طرح پٹرول پمپ پر کھڑا حساب لگاتا رہے گا کہ اس مہینے کتنے لیٹر تیل اس کی جیب کی اجازت دیتی ہے۔
یہی وہ نکتہ ہے جہاں سے اصل کالم شروع ہونا چاہیے تھا، اور یہی وہ نکتہ ہے جہاں اسے ختم ہونا چاہیے: امن کا میڈل خوبصورت ہوتا ہے، مگر اگر اس کا وزن عوام کی جیب پر ڈال دیا جائے، تو وہ میڈل نہیں، طوق بن جاتا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ پاکستان اپنی سفارتی کامیابی کو معاشی حکمتِ عملی میں بدلے، نہ کہ صرف تصویروں اور ٹویٹس میں سمیٹ کر رکھ دے۔ عوام کو امن کے میڈل کی نہیں، سستے پٹرول، مناسب بجلی کے بل، اور قابلِ برداشت مہنگائی کی ضرورت ہے، اور یہی وہ اصل امتحان ہے جس میں حکومت کی کارکردگی جانچی جائے گی، نہ کہ بین الاقوامی سرخیوں میں۔
(ختم شد)