سعیدغنی وزیر بلدیات ہیں کیا ہم ان سے بھی استعفےکا مطالبہ کریں؟
کراچی کے علاقے لیاری سے منتخب پیپلز پارٹی کے رکن قومی اسمبلی نبیل گبول نے حالیہ عمارت حادثے پر شدید ردِعمل کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ وزیر بلدیات سعید غنی کو بھی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے مستعفی ہونا چاہیے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے نبیل گبول نے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (SBCA) کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ محض معطلیاں کافی نہیں، ذمہ دار افسران کی گرفتاری ناگزیر ہے۔ ان کے مطابق بلڈرز مافیا کے خلاف جلد بھرپور آپریشن شروع کیا جائے گا۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ صرف لیاری کے علاقے میں 122 خطرناک عمارتیں موجود ہیں اور آئندہ اجلاس میں اس حوالے سے نیا قانون منظور کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صرف نوٹس جاری کرنے سے بات نہیں بنے گی، اصل کارروائی گرفتاریوں اور قانون سازی کے ذریعے ہوگی۔
نبیل گبول نے بتایا کہ چار بلڈرز کے خلاف ایف آئی آر درج کی جا چکی ہے، جب کہ چار بلڈر ملک سے فرار ہو چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایس بی سی اے کے افسران کی ملی بھگت کے بغیر ایسی عمارتیں نہیں بن سکتیں۔ "ڈائریکٹر میرا فون نہیں اٹھاتا، میں سلیکٹ نہیں بلکہ عوام کے ووٹوں سے الیکٹ ہو کر آیا ہوں”، نبیل گبول کا دوٹوک موقف۔
انہوں نے مزید کہا کہ لیاری کے بغدادی حادثے کے متاثرین کو معاوضہ دیا جائے گا، اور جو لوگ یہاں آکر لاشوں پر سیاست کرنا چاہتے ہیں، وہ شرم کریں۔
ادھر وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے سانحہ لیاری کے تناظر میں تفصیلی اجلاس کل طلب کر لیا ہے۔ اجلاس میں عمارت گرنے کی وجوہات اور متعلقہ اداروں کی کوتاہیوں کا جائزہ لیا جائے گا، جبکہ غفلت برتنے والوں کے خلاف سخت ایکشن کی یقین دہانی بھی کرائی گئی ہے۔
وزیراعلیٰ کے مطابق کراچی میں 480 سے زائد عمارتیں خطرناک قرار دی جا چکی ہیں، مگر ان سے گھر خالی کرانا ایک چیلنج بن چکا ہے کیونکہ متاثرہ افراد متبادل رہائش اور تحفظ کا مطالبہ کرتے ہیں۔