امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ روزمرہ زندگی میں صحت مند عادات اپنا کر امراض قلب، ہارٹ اٹیک، فالج، گردوں کے امراض، ہارٹ فیلیئر اور پھیپھڑوں کے دائمی امراض جیسے مسائل سے بچاؤ ممکن بنایا جا سکتا ہے۔
میامی یونیورسٹی کی اس تحقیق میں ٹائپ 2 ذیابیطس سے محفوظ مگر ہائی بلڈ شوگر کے شکار 72 افراد کو شامل کیا گیا جن کی صحت کا 30 سال تک جائزہ لیا گیا۔ ان افراد کو 1996 سے 1999 کے درمیان تحقیق میں شامل کیا گیا تھا اور ان میں ذیابیطس ٹائپ 2 کا خطرہ زیادہ پایا جاتا تھا۔
پاکستان کو آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی جیتے 9 برس بیت گئے
تحقیق میں شرکاء کو تین گروپس میں تقسیم کیا گیا۔ ایک گروپ میں طرز زندگی میں مثبت تبدیلیاں کی گئیں، دوسرے گروپ کو بلڈ شوگر کنٹرول کرنے والی ادویات دی گئیں جبکہ تیسرے گروپ کو پلیسبو دیا گیا۔
نتائج سے معلوم ہوا کہ صحت مند عادات اپنانے والے افراد میں 20 سال سے زائد عرصے میں دو یا اس سے زیادہ دائمی امراض کا خطرہ 21 فیصد تک کم ہو گیا۔ تحقیق کے مطابق روزانہ خوراک میں چکنائی کم کرنا، ہفتے میں کم از کم 150 منٹ جسمانی سرگرمی اور جسمانی وزن میں تقریباً 7 فیصد کمی جیسے اقدامات نمایاں فائدہ دیتے ہیں۔
اس کے برعکس ادویات استعمال کرنے والے گروپ میں متعدد دائمی امراض کے خطرے میں کوئی نمایاں کمی نہیں دیکھی گئی۔ محققین کے مطابق طرز زندگی میں تبدیلیاں نہ صرف ذیابیطس بلکہ فالج، گردوں کے امراض، پھیپھڑوں کے امراض اور ہارٹ فیلیئر سمیت کئی بیماریوں کے خطرے کو کم کرتی ہیں۔
تحقیق کے نتائج طبی جریدے JAMA میں شائع ہوئے۔