ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مسلسل دھمکیوں پر ایک بار پھر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ بے سوچے سمجھے جارحانہ اقدامات ٹرمپ کو بھاری قیمت چکانے پر مجبور کر دیں گے۔
ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ امریکی حکومت کے بعض عہدیدار زمینی حقائق کو نظر انداز کر رہے ہیں اور ان کی تمام تر توجہ 2028 کے صدارتی انتخابات پر مرکوز ہے۔
فٹبال ورلڈکپ جیتنے والی اسپینش ٹیم کے 2 کھلاڑیوں کیلئے ایسا انعام جو دنگ کر دینے والا ہے
انہوں نے کہا کہ امریکی انتظامیہ میں موجود بعض گمراہ عناصر نے حقیقت سے آنکھیں بند کر رکھی ہیں، وہ زمینی حقائق کو نظر انداز کر رہے ہیں اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ان کی ساری توجہ صرف 2028 کے انتخابات پر مرکوز ہے۔
عباس عراقچی نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ وہ جس بے سوچے سمجھے جارحانہ رویے کی حمایت کر رہے ہیں، اس کا نتیجہ صرف یہ ہوگا کہ صدر ٹرمپ کو اس معاہدے کے لیے کہیں زیادہ بھاری قیمت ادا کرنا پڑے گی جسے وہ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔
واضح رہے کہ امریکی ایوان نمائندگان کی جانب سے ایران کے خلاف جنگ سے گریز کی سفارش کے باوجود صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو ایک بار پھر بڑے فوجی آپریشن کی دھمکی دی ہے۔
امریکی خبر رساں ادارے ایکزیوس سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ ابھی ایران کو زیادہ نقصان نہیں پہنچا، وہ ایران میں بڑے پیمانے پر فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع کرنے پر غور کر رہے ہیں۔
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ نئی فوجی کارروائیوں میں ’’آپریشن ایپک فیوری‘‘ کے حملوں سے بھی زیادہ بڑے حملے کیے جا سکتے ہیں۔
تاہم انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ نئے اور بڑے حملوں کے حوالے سے ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔