ثناء میر نے قومی ویمن کرکٹ ٹیم کی کارکردگی پر تنقید کرنے والوں کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا ہے کہ خواتین کرکٹرز کو اکثر ان کی کارکردگی کے بجائے ان کی جنس کی بنیاد پر تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔
گلوبل ٹارچر انڈیکس 2026: طالبان کے قید خانوں میں خواتین کی بڑھتی تعداد اور تشدد کی ہولناک داستان
سابق کپتان نے سوال اٹھایا کہ کیا پاکستان کی مردوں کی ٹیم ورلڈ کپ نہیں ہاری؟ کیا ان کی کارکردگی میں اتار چڑھاؤ نہیں آیا؟ انہوں نے کہا کہ کسی خاتون کرکٹر نے کبھی مرد کرکٹرز کے بارے میں یہ نہیں کہا کہ وہ تندور پر روٹیاں لگانے کے لیے زیادہ موزوں ہیں یا انہیں وہی کام کرنا چاہیے۔
ثناء میر کا کہنا تھا کہ خواتین کرکٹرز کو غیر ضروری اور صنفی تعصب پر مبنی تنقید کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بعض لوگ خواتین کرکٹرز کی مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے تیار کردہ جعلی ویڈیوز بنا کر جھوٹا پروپیگنڈا کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ انہیں معاشرے کے موجودہ ذہنی رویے سے تکلیف ہوتی ہے اور جب تک اس سوچ کو تبدیل نہیں کیا جاتا، خواتین کے کھیل اور مجموعی طور پر معاشرے میں مثبت پیش رفت ممکن نہیں ہو سکے گی۔