گلوبل ٹارچر انڈیکس 2026: طالبان کے قید خانوں میں خواتین کی بڑھتی تعداد اور تشدد کی ہولناک داستان
ورلڈ آرگنائزیشن اگینسٹ ٹارچر (OMCT) کی جانب سے جاری کردہ “گلوبل ٹارچر انڈیکس 2026” نے افغانستان کو تشدد، غیر انسانی سلوک اور ریاستی جبر کے حوالے سے “انتہائی ہائی رسک” کی کیٹیگری میں رکھا ہے، جہاں طالبان کے دورِ حکومت میں خواتین، انسانی حقوق کے کارکنوں اور شہریوں کو منظم تشدد کا سامنا ہے۔
دستیاب سرکاری و مانیٹرنگ رپورٹس کے مطابق طالبان کی حراست میں موجود خواتین قیدیوں کی تعداد 2021 میں 840 سے بڑھ کر 2025 میں 1,825 تک پہنچ چکی ہے۔ اس وقت طالبان کے باقاعدہ قید خانوں اور حراستی مراکز میں لگ بھگ 23,000 افراد قید ہیں، یعنی ملک میں شرحِ حراست 54 فی 100,000 ہے، اور انتہائی تشویشناک بات یہ ہے کہ ان میں سے %52 ایسے قیدی ہیں جن پر تاحال جرم ثابت نہیں ہوا اور وہ بدستور حراست میں ہیں۔
ان قیدیوں میں تقریباً 1,000 خواتین شامل ہیں جو مجموعی جیل آبادی کا% 4.3 بنتی ہیں، اور یہ خواتین طالبان انٹیلیجنس (GDI)، وزارتِ داخلہ اور امر بالمعروف کے اہلکاروں کے زیرِ انتظام خفیہ اور سرکاری عقوبت خانوں میں بدترین انسانی حقوق کی پامالیوں کا سامنا کر رہی ہیں۔ آزاد مانیٹرنگ رپورٹس اور اقوامِ متحدہ کے مشن نے گواہی دی ہے کہ ان اسیر خواتین کو بغیر کسی قانونی رسائی کے بدترین جسمانی مارپیٹ، الیکٹرک شاکس، کوڑے مارنے اور جنسی تشدد جیسے غیر انسانی ہتھکنڈوں کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
افغان خواتین اور بچیوں پر تعلیم کے دروازے بند کرنے، روزگار پر پابندی لگانے، اور محرم کے بغیر نقل و حرکت کو جرم قرار دینے کے بعد، اب انہیں معمولی “اخلاقی جرائم” کے نام پر قید کرنا اور ان پر تشدد کو باقاعدہ ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا طالبان کے سیاسی اور کنٹرول کے نظام کا بنیادی ستون بن چکا ہے۔