اسلام آباد: اگرچہ خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے آئینی عدالت میں جمع کرائے گئے جواب میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ مجوزہ ’’عمران خان ریلیز فورس‘‘ کبھی تشکیل ہی نہیں دی گئی، تاہم پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس فورس کے قیام کی تجویز پر باقاعدہ غور کیا گیا تھا اور وزیراعلیٰ اس کے سرگرم حامیوں میں شامل تھے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے نہ صرف اس مجوزہ تنظیم کی منظوری دینے سے انکار کیا بلکہ اس کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کرنے کی بھی اجازت نہیں دی، جس کے باعث منصوبہ عملی شکل اختیار نہ کر سکا۔
بلوچستان: بارکھان میں مسلح افراد کی پولیس گاڑی پر فائرنگ، ڈی ایس پی شہید
پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ مجوزہ فورس کو پی ٹی آئی کی قیادت کے ایک حلقے، جس میں وزیراعلیٰ سہیل آفریدی بھی شامل تھے، کی حمایت حاصل تھی، تاہم چیئرمین بیرسٹر گوہر کی واضح مخالفت کے بعد اس تجویز کو ترک کر دیا گیا۔
ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی کی مہم کے لیے رضاکاروں کو منظم کرنے، ان کی رجسٹریشن کرنے اور ان سے حلف لینے کا بھی اعلان کیا تھا، لیکن یہ منصوبہ کبھی باضابطہ تنظیم کی شکل اختیار نہ کر سکا کیونکہ پارٹی قیادت نے اسے غیر آئینی اور غیر قانونی قرار دیا۔
ذرائع کے مطابق بیرسٹر گوہر علی خان نے پارٹی قیادت کو خبردار کیا تھا کہ اگر اس نوعیت کی کسی ’’فورس‘‘ کو باقاعدہ تشکیل دیا گیا تو پارٹی کو سنگین قانونی نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے اور اس پر عسکریت پسندی جیسے الزامات بھی عائد کیے جا سکتے ہیں۔
یہ معاملہ اس وقت دوبارہ زیر بحث آیا جب وزیراعلیٰ نے آئینی عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ ’’آئی کے ریلیز فورس‘‘ کبھی وجود میں نہیں آئی۔ اگرچہ یہ بیان تکنیکی طور پر درست ہے، تاہم پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ صرف تجویز کی حد تک محدود رہا کیونکہ پارٹی چیئرمین نے اسے منظوری نہیں دی۔
چند ماہ قبل وزیراعلیٰ کی جانب سے خصوصی ’’عمران خان ریلیز فورس‘‘ قائم کرنے کے اعلان کے بعد اس منصوبے پر پارٹی کے اندر اختلافات سامنے آئے تھے۔ مجوزہ منصوبے کے تحت ایک منظم تنظیم قائم کی جانی تھی، جس کے رجسٹرڈ ارکان احتجاجی مہم کا حصہ بننے سے قبل باقاعدہ حلف اٹھاتے، تاہم اندرونی اعتراضات کے باعث یہ تجویز واپس لے لی گئی۔
بعد ازاں پی ٹی آئی نے اس کے متبادل کے طور پر ایک وسیع سیاسی تحریک شروع کرنے کا فیصلہ کیا، جس میں تمام حامیوں کی شمولیت ممکن ہو، جبکہ باضابطہ رکنیت، حلف برداری اور فورس جیسی تنظیمی ساخت کا تصور ختم کر دیا گیا۔ پارٹی ذرائع کے مطابق نئی حکمت عملی کو جان بوجھ کر آئینی اور جمہوری دائرے میں رکھا گیا تاکہ کسی متوازی تنظیم کے قیام کا تاثر پیدا نہ ہو۔
ذرائع کے مطابق پارٹی نے یہ فیصلہ بھی کیا کہ آئندہ کسی بھی احتجاجی یا عوامی تحریک کے آغاز اور اس کے وقت کا فیصلہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نہیں کریں گے بلکہ اس حوالے سے قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کی قیادت میں قائم اپوزیشن اتحاد سے مشاورت کی جائے گی۔
پارٹی کے اندر مجوزہ ’’عمران خان ریلیز فورس‘‘ کے منصوبے کو ترک کیے جانے کو اس بات کی علامت قرار دیا جا رہا ہے کہ پی ٹی آئی کی معتدل قیادت کو ان عناصر پر برتری حاصل ہوئی جو زیادہ جارحانہ حکمت عملی کے حامی سمجھے جاتے تھے۔