Gas Leakage Web ad 1

پنجاب سے غائب ہونے والی لاکھوں ٹن گندم کہاں گئی؟

0

پنجاب میں تقریباً 45 لاکھ ٹن گندم کا ریکارڈ دستیاب نہ ہونے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جس کے بعد ملک میں گندم کی ممکنہ قلت اور آٹے کی قیمتوں میں اضافے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔

Gas Leakage Web ad 2

وفاقی حکومت اور صوبوں کو رواں سال گندم خریداری پالیسی پر عملدرآمد میں مشکلات کا سامنا ہے۔ اعلیٰ سطح کے اجلاس میں انکشاف ہوا کہ پنجاب میں گندم کی ایک بڑی مقدار کے بارے میں مکمل معلومات موجود نہیں، جس پر حکام نے تشویش کا اظہار کیا۔

رپورٹس کے مطابق رواں سال ملک میں گندم کی پیداوار بہتر رہی، تاہم ذخیرہ اندوزی، انتظامی مسائل اور خریداری کے نظام میں مشکلات کے باعث بحران کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔

ذرائع کے مطابق حکومت کی جانب سے گندم کی قیمت 3500 روپے فی من مقرر کیے جانے کے بعد نجی شعبے نے مہنگی خریداری سے گریز کیا، جس کے بعد پنجاب حکومت نے نجی شعبے کو گندم خریدنے کے لیے سہولت فراہم کی۔

نجی شعبے نے گندم خریداری کے لیے بینک قرضوں کی سہولت کا مطالبہ کیا، جبکہ سیزن کے آغاز میں سندھ اور خیبرپختونخوا میں گندم کی قیمت 4500 روپے فی من تک پہنچنے کی اطلاعات سامنے آئیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ بعض ذخیرہ اندوزوں نے کسانوں سے 2800 روپے فی من کے حساب سے گندم خرید کر ذخیرہ کرلی، جس کے باعث سیزن کے آغاز ہی میں مختلف شہروں میں آٹے کی قیمتوں میں اضافہ شروع ہوگیا۔

حکام کے مطابق پنجاب میں گندم خریداری کا ہدف مکمل نہیں ہوسکا، جبکہ بعض صوبوں نے وفاقی ذخائر سے اضافی گندم فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ آٹے کی فراہمی برقرار رکھی جا سکے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر گندم کی دستیابی یقینی نہ بنائی گئی تو آنے والے مہینوں میں آٹے کی قیمتوں اور سپلائی کے مسائل میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ ان کے مطابق موجودہ صورتحال میں حکومت کو ذخائر، درآمدات اور خریداری کے نظام پر فوری اقدامات کرنا ہوں گے۔

sui northern 2
Leave A Reply

Your email address will not be published.