نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر شزا فاطمہ نے کہا ہے کہ ٹیلی کمیونیکیشن سے متعلق مجوزہ بل میں شامل بعض الفاظ کی مزید وضاحت ضروری ہے، اور اسی مقصد کے تحت اس میں مناسب ترامیم کی جائیں گی تاکہ کسی بھی قسم کی غلط فہمی پیدا نہ ہو۔
وزیر اعلیٰ پختونخوا کی عمران خان سے ملاقات کی درخواست سننے والا اسلام آباد ہائیکورٹ کا بینچ ٹوٹ گیا
انہوں نے تسلیم کیا کہ زمین کے اوپر ٹیلی کمیونیکیشن انفراسٹرکچر کی تنصیب سے متعلق بل کے بعض حصوں میں ابہام موجود ہے، جسے دور کرنے کے لیے حکومت ضروری اقدامات کرے گی۔
وفاقی وزیر کے مطابق 5 کروڑ روپے تک جرمانے سے متعلق سامنے آنے والے خدشات درست سیاق و سباق میں نہیں سمجھے گئے۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ جرمانہ صرف اس صورت میں لاگو ہوگا جب زمین یا جائیداد کے مالک اور متعلقہ ادارے کے درمیان باہمی رضامندی سے طے پانے والے معاہدے کی خلاف ورزی کی جائے۔