Gas Leakage Web ad 1

بجٹ؛ درآمدی الیکٹرک گاڑیوں پر سیلز ٹیکس کی شرح 25 فیصد بڑھانے کا امکان

0

نئے مالی سال کے بجٹ میں درآمدی الیکٹرک گاڑیوں پر سیلز ٹیکس کی شرح 25 فیصد تک بڑھائے جانے کا امکان ہے۔

Gas Leakage Web ad 2

ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت کی جانب سے آئندہ مالی سال 2026-27 کے وفاقی بجٹ میں درآمدی الیکٹرک گاڑیوں (ای ویز) پر سیلز ٹیکس کی شرح 25 فیصد تک بڑھانے کا امکان ہے جبکہ ہائبرڈ گاڑیوں پر موجودہ ٹیکس شرحیں برقرار رکھنے کی تجویز ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کے لیے دی گئی متعدد ٹیکس مراعات اور چھوٹ 30 جون 2026 کو ختم ہو جائیں گی جن میں مقامی مینوفیکچررز کی جانب سے الیکٹرک گاڑیوں کے مکمل ناک ڈاؤن (سی کے ڈی) کٹس کی درآمد پر حاصل سیلز ٹیکس استثنیٰ بھی شامل ہے۔

موجودہ پالیسی کے تحت 50 کلو واٹ آور یا اس سے کم بیٹری صلاحیت رکھنے والی چھوٹی گاڑیوں اور ایس یو ویز جبکہ 150 کلو واٹ آور تک بیٹری صلاحیت رکھنے والی لائٹ کمرشل گاڑیوں (ایل سی ویز) کے لیے یہ رعایت دستیاب ہے۔

محرم الحرام کے دوران پنجاب بھر میں دفعہ 144 نافذ

اسی طرح مقامی سطح پر تیار یا اسمبل کی جانے والی چار پہیوں والی الیکٹرک گاڑیوں پر 30 جون 2026 تک صرف ایک فیصد سیلز ٹیکس عائد ہے۔

دوسری جانب مقامی طور پر تیار کردہ ہائبرڈ الیکٹرک گاڑیوں پر بھی 30 جون 2026 تک 8.5 فیصد سے 12.75 فیصد تک رعایتی سیلز ٹیکس نافذ العمل ہے، جسے آئندہ مالی سال میں برقرار رکھنے کی تجویز زیر غور ہے۔

اس کے علاوہ الیکٹرک گاڑیوں کے پرزہ جات اور اجزا کی درآمد پر کسٹمز ڈیوٹی میں رعایت کو بھی توسیع دینے کی تجویز ہے تاکہ پاکستان میں گرین ٹرانسپورٹ اور مقامی ای وی مینوفیکچرنگ کی حوصلہ افزائی کی جا سکے۔

واضح رہے کہ وفاقی کابینہ نے جون 2020 میں الیکٹرک وہیکل پالیسی کی منظوری دیتے ہوئے الیکٹرک گاڑیوں کے مخصوص پرزہ جات کی درآمد پر 5 سالہ رعایتی کسٹمز ڈیوٹی کی اجازت دی تھی۔ بعد ازاں دسمبر 2021 میں ان مراعات میں توسیع دی گئی اور لائٹ کمرشل گاڑیوں اور وینز کے لیے بھی سہولت فراہم کی گئی۔

کسٹمز (ترمیمی) بل 2026 کے تحت مکمل تیار شدہ الیکٹرک گاڑیوں (سی بی یوز) کی درآمد پر دی گئی کسٹمز ڈیوٹی رعایت بھی 30 جون 2026 تک برقرار رکھی گئی ہے۔

sui northern 2
Leave A Reply

Your email address will not be published.