بانی پی ٹی آئی عمران خان اور وزیراعظم شہباز شریف کے درمیان ہتک عزت کیس میں سپریم کورٹ نے بانی پی ٹی آئی کا حقِ دفاع بحال کر دیا۔
جسٹس عائشہ ملک کی سربراہی میں جسٹس ہاشم کاکڑ اور جسٹس اشتیاق ابراہیم پر مشتمل تین رکنی بینچ نے بانی پی ٹی آئی کے حقِ دفاع ختم کرنے کے خلاف دائر نظرثانی درخواست کی سماعت کی۔
این ٹی سی اور سن شائن انرجی ٹیکنالوجی چائنہ میں معاہدے پر دستخط
گزشتہ سماعت کے دوران شہباز شریف کے وکیل مصطفیٰ رمدے نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کے وکیل نے نظرثانی میں کوئی قابل ذکر نکتہ پیش نہیں کیا اور نہ ہی عدالتی فیصلے میں کسی سقم یا غلطی کی نشاندہی کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ جولائی 2017 میں شہباز شریف نے بانی پی ٹی آئی کے خلاف ہتک عزت کا دعویٰ دائر کیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کا جواب چار سال بعد جمع ہوا اور ان کے وکیل نے تحریری جواب داخل ہونے تک 75 مرتبہ التوا لیا۔ جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ شہباز شریف کا ترمیمی جواب 8 مارچ کو جمع ہوا تھا اور اس کے بعد بانی پی ٹی آئی کا انٹروگیشن جواب نو ماہ تک جمع نہیں کرایا گیا۔
شہباز شریف کے وکیل نے مزید کہا کہ بانی پی ٹی آئی کو گولی لگنے کا واقعہ افسوسناک ہے، تاہم 17 اور 24 نومبر کو ان کی عدم دستیابی کا کوئی گراؤنڈ نہیں لیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ 20 اکتوبر 2022 کو ٹرائل کورٹ نے بانی پی ٹی آئی کی جانب سے اٹھائے گئے اعتراضات مسترد کر دیے تھے۔
انہوں نے مزید کہا کہ 26 اکتوبر اور 8 نومبر 2022 کو بانی پی ٹی آئی کے زخمی ہونے کی بنیاد پر وقت کی درخواست کی گئی، جبکہ 24 اور 27 نومبر 2022 کو وکیل کی جانب سے اعتراضات مسترد ہونے کے فیصلے کو چیلنج کرنے کی بنیاد پر بھی سماعت ملتوی کرنے کی استدعا کی گئی۔
کیس کی سماعت کل تک ملتوی کر دی گئی ہے اور شہباز شریف کے وکیل مصطفیٰ رمدے کل بھی اپنے دلائل جاری رکھیں گے۔