بورڈ آف ریونیو پنجاب نے ثالثی کمیٹیوں سے متعلق نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے اور اسے 30 اپریل سے نافذ العمل قرار دیا گیا ہے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق زمین کے تنازعات عدالت جانے سے پہلے اسسٹنٹ کمشنر کی سربراہی میں قائم ثالثی کمیٹی میں حل کیے جائیں گے، جس میں گرداور، نمبردار اور مقامی سطح کے دیگر نمائندے بھی شامل ہوں گے۔
صدرِ مملکت نے پی آئی اے کارپوریشن آرڈیننس 2026 کی منظوری دیدی
اسسٹنٹ کمشنر کی سربراہی میں پانچ رکنی ثالثی کمیٹی اب زمین سے متعلق تنازعات نمٹائے گی۔ کمیٹی میں اسسٹنٹ کمشنر، اسسٹنٹ کلکٹر، گرداور، نمبردار اور فریقین کی جانب سے نامزد کردہ تین ارکان شامل ہوں گے۔
پنجاب لینڈ ریونیو ایکٹ 1967 کے تحت ثالثی کمیٹی کو سیکشن 151(2) کے تحت تنازعات کے حل کا اختیار حاصل ہوگا۔
نوٹیفکیشن کے مطابق ان ثالثی کمیٹیوں کو 30 دن کے اندر زیر التوا مقدمات کے حل اور فوری انصاف کی فراہمی کو یقینی بنانے کا ہدف دیا گیا ہے، جبکہ بورڈ آف ریونیو پنجاب میں اس عمل کی نگرانی کے لیے ایک مانیٹرنگ سیل بھی قائم کر دیا گیا ہے۔