اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے فنانس ڈویژن کو ہدایت جاری کی ہے کہ وہ پیٹرول اور ڈیزل پر عائد لیوی کے ڈھانچے کے حوالے سے آئی ایم ایف سے مذاکرات کرے، تاکہ ایران جنگ کے باعث عالمی سطح پر پیٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کا بوجھ عوام پر منتقل ہونے سے روکا جا سکے۔
سکیورٹی فورسز کی خیبر پختونخوا میں دو مختلف کارروائیاں، 13 خوارج ہلاک
سرکاری ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے منگل کے روز وزارتِ خزانہ کو ہدایت دی کہ یہ معاملہ آئی ایم ایف کے سامنے اٹھایا جائے، تاکہ پیٹرولیم قیمتوں میں کسی ممکنہ رد و بدل کو موجودہ لیوی کے ذریعے متوازن بنایا جا سکے۔ اس وقت حکومت پیٹرول پر فی لیٹر 100 روپے جبکہ ڈیزل پر فی لیٹر 55 روپے لیوی وصول کر رہی ہے، اور یہ لیوی آئی ایم ایف کی شرائط کا حصہ ہیں۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب حکومت پہلے ہی ایندھن کی قیمتوں کو مستحکم رکھنے کے لیے 129 ارب روپے کی بڑی سبسڈی فراہم کر چکی ہے۔ حکام کے مطابق یہ ریلیف ترقیاتی بجٹ میں کمی اور دیگر مدات میں بچت کے ذریعے دیا گیا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت عالمی تیل منڈی میں اتار چڑھاؤ کے مکمل اثرات سے عوام کو بچانے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔
ایک سینئر سرکاری عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ایران جنگ کے باعث عالمی تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس کے نتیجے میں ملکی سطح پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔ وزیراعظم کی ہدایت واضح ہے کہ ہر ممکن اقدامات کیے جائیں تاکہ اس صورتحال کا بوجھ عوام پر نہ پڑے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ فنانس ڈویژن کو آئی ایم ایف کے ساتھ ممکنہ طور پر لیوی کے ڈھانچے میں تبدیلی سے متعلق ایک جامع تجویز پر بات چیت کی ہدایت دی گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق حکومت مختلف آپشنز کا جائزہ لے رہی ہے تاکہ عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات کو پاکستانی عوام تک منتقل ہونے سے روکا جا سکے۔