کراچی: معروف سینئر وکیل خواجہ شمس الاسلام ڈیفنس فیز 6 میں ایک جنازے کے دوران فائرنگ کے واقعے میں جاں بحق ہو گئے۔ خواجہ شمس الاسلام کا شمار کراچی کے ممتاز وکلا میں ہوتا تھا، جو کئی برسوں سے پیشہ ورانہ خدمات سرانجام دے رہے تھے۔
توسیع کالونی ملیر سے تعلق رکھنے والے خواجہ شمس الاسلام حالیہ دنوں میں ڈیفنس فیز 6 میں مقیم تھے۔ وہ قانونی مہارت اور دلائل کی مضبوطی کے باعث عدالتی حلقوں میں خاص شہرت رکھتے تھے۔ ان کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ اگر وہ کسی مقدمے کے وکیل ہوں تو ججز بھی پوری تیاری اور سنجیدگی کے ساتھ کیس کی سماعت کرتے تھے۔
وہ متعدد ہائی پروفائل کیسز کی پیروی کر چکے تھے، اور خاص طور پر سول، کریمنل اور زمین سے متعلق تنازعات کے ماہر وکیل مانے جاتے تھے۔ وکالت کے شعبے میں سخت مؤقف رکھنے والے خواجہ شمس الاسلام کو مہنگی اسپورٹس گاڑیوں کا بھی شوق تھا، اور ان کی گاڑی اکثر سندھ ہائیکورٹ کے مرکزی دروازے کے سامنے دیکھی جاتی تھی۔
صحافی بلال احمد، جو کئی برسوں سے سندھ ہائیکورٹ کی رپورٹنگ کرتے رہے ہیں، کے مطابق خواجہ شمس الاسلام کا مزاج سخت تھا، اور ان کا جھگڑوں میں ملوث ہونا کوئی نئی بات نہیں تھی۔ 2019 میں ان کے ڈرائیور کے قتل کے بعد انہیں ایک بڑی آزمائش کا سامنا کرنا پڑا۔ مقتول کے اہل خانہ نے خواجہ شمس الاسلام پر ہی الزام لگایا، جس پر پولیس نے انہیں گرفتار کیا، تاہم پہلی ہی پیشی پر مجسٹریٹ نے انہیں رہا کرنے کا حکم دے دیا۔
گزشتہ برس نومبر میں ان پر قاتلانہ حملہ بھی ہوا، جس میں وہ ہاتھ پر گولی لگنے کے باوجود محفوظ رہے۔ اسی سال ان کی پولیس اہلکاروں سے تلخ کلامی کی ایک ویڈیو بھی وائرل ہوئی تھی، جس کے بعد ان پر ڈیفنس تھانے میں مقدمہ بھی درج کیا گیا۔
تمام تنازعات کے باوجود خواجہ شمس الاسلام روزانہ کی بنیاد پر ہائیکورٹ میں پیش ہوتے تھے اور مقدمات کی پیروی جاری رکھتے تھے۔
واقعے کے روز وہ اپنے بیٹے کے ہمراہ معروف تاجر مزمل پراچہ کے جنازے میں شریک تھے اور پچھلی صفوں میں کھڑے تھے جب حملہ آور نے ان پر فائرنگ کی۔ پولیس کے مطابق، خواجہ شمس الاسلام کو سینے میں اور ان کے بیٹے کو پیٹ میں گولی لگی۔ دونوں کو فوری طور پر قریبی نجی اسپتال منتقل کیا گیا، تاہم خواجہ شمس الاسلام زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے۔
پولیس نے جائے وقوعہ کی سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کرلی ہے اور ملزم کی شناخت کرلی گئی ہے۔ تفتیشی حکام کے مطابق، خواجہ شمس الاسلام کے قتل میں ملوث شخص ان کے سابق محافظ کا بیٹا عمران آفریدی ہے، جس کی گرفتاری کے لیے شہر بھر کے داخلی و خارجی راستوں پر ناکہ بندی کر دی گئی ہے۔
ڈی آئی جی ساؤتھ کے مطابق، ملزم عمران کا موجودہ پتہ کلفٹن سول لائنز کا ہے، اور اس کی تصویر اور تمام تفصیلات پولیس ناکوں پر فراہم کر دی گئی ہیں۔ کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کے انچارج راجہ عمر خطاب کا کہنا ہے کہ واقعہ بظاہر ذاتی دشمنی کا نتیجہ لگتا ہے۔