Gas Leakage Web ad 1

پاکستان کی معیشت مستحکم، اب ترقی کی رفتار تیز کرنا ہوگی: وزیراعظم شہباز شریف

0

اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان نے معاشی استحکام حاصل کر لیا ہے اور اب حکومت کی اولین ترجیح اقتصادی ترقی کی رفتار تیز کرنا، روزگار کے مواقع پیدا کرنا اور عام شہریوں کے معیار زندگی کو بہتر بنانا ہے۔

Gas Leakage Web ad 2

قومی اقتصادی کونسل (NEC) کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ وفاقی حکومت نے تمام اہم قومی معاملات میں صوبوں سے مشاورت کے ساتھ فیصلے کیے ہیں۔ انہوں نے بجٹ سازی کے عمل اور مشکل معاشی حالات میں وسائل کے مؤثر انتظام کے لیے چاروں صوبوں کے تعاون کو سراہا۔

وزیراعظم نے کہا کہ اگرچہ معاشی اشاریے مستحکم ہو چکے ہیں، تاہم اب اصل چیلنج معیشت میں ترقی کی نئی رفتار پیدا کرنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ زرعی شعبے، برآمدات اور صنعتی ترقی کو فروغ دے کر ہی عوامی فلاح اور معاشی خوشحالی کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔

قومی اقتصادی کونسل نے مالی سال 2026-27 کے لیے 3.669 ٹریلین روپے کے قومی ترقیاتی بجٹ کی منظوری دی جبکہ آئندہ مالی سال کے لیے مجموعی قومی پیداوار (GDP) کی شرح نمو کا ہدف 4 فیصد مقرر کیا گیا۔ اجلاس میں وفاقی پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (PSDP) کے لیے ایک ہزار ارب روپے، صوبائی سالانہ ترقیاتی پروگراموں کے لیے 2.218 ٹریلین روپے اور سرکاری اداروں کے ترقیاتی پروگراموں کے لیے 451 ارب روپے مختص کرنے کی منظوری دی گئی۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ گزشتہ مالی سال کے دوران وفاقی PSDP کے تحت 820 ارب روپے جبکہ صوبائی ترقیاتی پروگراموں کے تحت 2.938 ٹریلین روپے خرچ کیے جا رہے ہیں۔ کونسل نے “اڑان پاکستان” پروگرام کے تحت 11 قومی اقتصادی ترقیاتی مشنز کی بھی منظوری دی اور ان پر عملدرآمد کے لیے جامع روڈ میپ تیار کرنے کی ہدایت کی۔

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان اب بھی آئی ایم ایف پروگرام کا حصہ ہے اور حکومت نے متعدد معاشی چیلنجز کا کامیابی سے سامنا کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ رات آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر سے تفصیلی گفتگو ہوئی جس میں پاکستان کی معاشی اصلاحات اور استحکام کے لیے کیے گئے اقدامات کو سراہا گیا۔

وزیراعظم نے حالیہ علاقائی کشیدگی کے باعث تیل کی قیمتوں میں اضافے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وفاق اور صوبوں کے درمیان مؤثر رابطے کے باعث ملک بھر میں پیٹرولیم مصنوعات کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی گئی اور عوام میں کسی قسم کی بے چینی پیدا نہیں ہونے دی گئی۔

دوسری جانب وزیراعظم نے آئی ٹی کے شعبے میں اعلیٰ تعلیم کے معیار پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے پاکستانی جامعات میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کی تعلیم کا جامع جائزہ لینے کا حکم دیا ہے۔ اعلیٰ سطحی اجلاس میں انہیں ہائر ایجوکیشن کمیشن کی جانب سے منعقدہ نیشنل اسکلز کمپیٹنسی ٹیسٹ کے نتائج سے آگاہ کیا گیا، جس میں ملک بھر کے 190 تعلیمی اداروں کے 33 ہزار سے زائد طلبہ نے حصہ لیا۔

نتائج کے مطابق صرف 0.4 فیصد طلبہ 80 فیصد سے زائد نمبر حاصل کر سکے جبکہ 61 فیصد طلبہ 50 فیصد نمبر لینے میں بھی ناکام رہے۔ وزیراعظم نے نتائج کو غیر تسلی بخش قرار دیتے ہوئے جامعات میں آئی ٹی تعلیم اور تربیتی پروگراموں کا تھرڈ پارٹی آڈٹ کرانے کی ہدایت کی۔ انہوں نے مصنوعی ذہانت، ڈیٹا سائنس، روبوٹکس اور دیگر جدید ٹیکنالوجیز میں مہارت پیدا کرنے کے لیے جامع روڈ میپ جلد پیش کرنے کا حکم بھی دیا۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ نوجوان پاکستان کا سب سے بڑا اثاثہ ہیں اور انہیں عالمی منڈی کے تقاضوں سے ہم آہنگ مہارتیں فراہم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ برآمدات میں اضافے، سرمایہ کاری کے فروغ اور ڈیجیٹل معیشت کی مضبوطی کے لیے جدید تکنیکی تعلیم ناگزیر ہے۔

ادھر وزیراعظم نے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے مئی 2026 کے دوران ریکارڈ 4.3 ارب ڈالر کی ترسیلات زر بھی خوش آئند قرار دیں۔ انہوں نے کہا کہ ترسیلات زر میں ماہانہ بنیاد پر 20.2 فیصد اور سالانہ بنیاد پر 15.4 فیصد اضافہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اوورسیز پاکستانی ملکی معیشت پر اعتماد رکھتے ہیں۔ وزیراعظم نے بیرون ملک پاکستانیوں کے کردار کو قومی معیشت کے لیے قیمتی اثاثہ قرار دیا۔

دریں اثنا صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف نے مظفرآباد کے قریب پاک فوج کے ایم آئی-17 ہیلی کاپٹر حادثے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔ دونوں رہنماؤں نے حادثے میں شہید ہونے والے اہلکاروں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے ان کے درجات کی بلندی اور لواحقین کے لیے صبر جمیل کی دعا کی۔

اسی روز قومی اسمبلی کے ارکان چوہدری نصیر احمد عباس اور سعد وسیم نے بھی وزیراعظم سے ملاقات کی اور اپنے اپنے حلقوں میں جاری ترقیاتی اور عوامی فلاحی منصوبوں پر پیش رفت سے آگاہ کیا۔ ملاقات میں نئے ترقیاتی منصوبوں اور سیاسی امور پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

حکومت کا مؤقف ہے کہ معاشی استحکام کے بعد اب توجہ پائیدار ترقی، روزگار کے مواقع، نوجوانوں کی فنی تربیت، برآمدات میں اضافے اور عوامی فلاح پر مرکوز کی جا رہی ہے تاکہ پاکستان کو خود انحصاری اور دیرپا خوشحالی کی راہ پر گامزن کیا جا سکے

sui northern 2
Leave A Reply

Your email address will not be published.