اسلام آباد: رکن قومی اسمبلی شیر افضل مروت نے پارٹی رہنما علیمہ خان پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے گزشتہ ایک سال میں پارٹی پر مکمل کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کی ہے۔
شیر افضل مروت کے مطابق تمام اہم فیصلے، جیسے کہ جیل میں ملاقاتوں کا وقت، اجلاسوں کا شیڈول، اور پارٹی عہدوں میں تبدیلیاں، علیمہ خان کی مرضی سے طے پاتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ علیمہ خان ارکان کے خلاف سخت زبان استعمال کرتی ہیں اور کارکنان کے جذبات کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ پارٹی رہنما جنید اکبر نے بھی اعتراف کیا ہے کہ علیمہ خان نے مبینہ طور پر کہا، "میں آپ کی اور ورکرز کی طلاق کراؤں گی”۔ شیر افضل کے مطابق، ایسی زبان صرف ان کے لیے نہیں بلکہ دیگر ارکان کے لیے بھی استعمال کی جاتی ہے۔
اپنے خلاف پارٹی فیصلوں پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ واحد رکن ہیں جسے تین بار پارٹی سے نکالا گیا، لیکن اس کے باوجود ورکرز ہمیشہ ان کے ساتھ کھڑے ہوئے۔
شیر افضل مروت نے علیمہ خان اور سلمان اکرم راجہ پر پارٹی کو نقصان پہنچانے کا الزام بھی لگایا اور کہا کہ اگر بانی کو رہا کروانا ہے اور پارٹی کو فعال بنانا ہے تو علیمہ خان کے اثر و رسوخ سے چھٹکارا حاصل کرنا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ بشریٰ بی بی نے کبھی پارٹی پر کنٹرول کی کوشش نہیں کی، لیکن علیمہ خان کھلم کھلا پارٹی کو کنٹرول کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔
احتجاج کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 5 اگست کو کوئی احتجاج نہیں ہوا اور 14 اگست کو بھی نہیں ہوگا، کیونکہ ایسے مظاہروں کا فائدہ صرف اسی وقت ہوتا ہے جب عوام کی بڑی تعداد شریک ہو۔
انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ شہباز گل بھی علیمہ خان کے گروپ کا حصہ ہیں اور سوشل میڈیا پر بھی اسی گروپ کا کنٹرول ہے۔