ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق جوہری امور اور پابندیوں سے متعلق مذاکرات کو آگے بڑھانے کے لیے مختلف ورکنگ گروپس تشکیل دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق چار ورکنگ گروپس قائم کیے جائیں گے جن میں پابندیوں کے خاتمے، جوہری امور، تعمیرِ نو اور اقتصادی ترقی، اور نگرانی و نفاذ سے متعلق گروپس شامل ہوں گے۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان آج پاکستان کے دورے پر اسلام آباد پہنچیں گے
ایرانی نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے تکنیکی سطح کے مذاکرات کامیابی سے مکمل ہو گئے ہیں۔
دوسری جانب ایران کے چیف مذاکرات کار باقر قالیباف نے کہا ہے کہ ایران خطے میں طویل عرصے سے جاری بدامنی کے خاتمے کے لیے مذاکرات میں شریک ہوا اور اس عمل میں اہم پیش رفت حاصل کی گئی ہے۔
رپورٹس کے مطابق امریکا نے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی ختم کرنے، ایرانی تیل کی پیداوار اور فروخت پر عائد پابندیاں 60 روز کے لیے نرم کرنے اور منجمد اثاثوں میں سے 12 ارب ڈالر کی بحالی پر اتفاق کیا ہے۔
اس کے علاوہ پاکستان اور قطر کی ثالثی سے لبنان میں جنگ بندی کے لیے ایک میکانزم پر بھی اتفاق ہوا ہے، جبکہ امریکا اور ایران کے درمیان حتمی معاہدے کے لیے 60 روزہ روڈ میپ طے کیا گیا ہے۔