پاکستان اور قطر کی ثالثی میں سوئٹزرلینڈ کے شہر برگن اسٹاک میں ہونے والے امریکا اور ایران کے مذاکرات میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ایران کے منجمد 12 ارب ڈالر کے اثاثوں کی بحالی کے لیے دستخط ہو گئے ہیں، جبکہ ایران نے یورینیم ملک سے باہر بھیجنے کے بجائے اس کی افزودگی کی سطح کم کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ اس پیش رفت کے بعد امریکا نے ایران پر عائد بعض پابندیاں 60 روز کے لیے معطل کر دی ہیں۔
نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے عرب میڈیا کو دیے گئے انٹرویو میں بتایا کہ ایران اپنے ایٹمی مواد کو بیرون ملک منتقل کرنے کے بجائے ملک کے اندر ہی اس کی افزودگی کم کرے گا۔ ان کے مطابق امریکا ابتدا میں یورینیم کی مکمل منتقلی کا مطالبہ کر رہا تھا، تاہم اب دونوں فریق ایک قابلِ قبول حل پر پہنچ گئے ہیں۔
میرج ہالز، فارم ہاؤسز اور بڑے فوڈ چینز کی مانیٹرنگ کیلئے کیمرے لگانے کا فیصلہ
اسحاق ڈار نے کہا کہ تین ورکنگ گروپس تشکیل دیے گئے ہیں جو ایٹمی پروگرام، ایران کے منجمد اثاثوں کی بحالی اور لبنان سے متعلق معاملات پر الگ الگ کام کریں گے۔ انہوں نے بتایا کہ آئندہ 60 دن تک آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں پر کوئی اضافی ٹیکس یا ٹیرف عائد نہیں ہوگا۔
انہوں نے مزید کہا کہ سعودی عرب، قطر، مصر اور متحدہ عرب امارات ثالثی کے عمل میں تعاون کر رہے ہیں، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مذاکراتی عمل کی نگرانی کی۔
واشنگٹن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے مذاکرات پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز مکمل طور پر کھلی ہوئی ہے اور ایران اس حوالے سے مثبت کردار ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں کمی آ رہی ہے اور مذاکراتی عمل جاری ہے۔
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے تصدیق کی کہ آبنائے ہرمز میں جہازوں کی محفوظ آمدورفت کے لیے ایک رابطہ نظام قائم کرنے پر اتفاق ہو گیا ہے، جبکہ لبنان کے استحکام اور سلامتی سے متعلق معاملات پر بھی پیش رفت ہوئی ہے۔
امریکا نے مذاکرات کے بعد ایران کو خام تیل اور پیٹرولیم مصنوعات کی پیداوار اور فروخت کے لیے عارضی لائسنس جاری کر دیا ہے۔ امریکی وزیر خزانہ نے بتایا کہ ایران کو 21 اگست 2026 تک خام تیل اور پیٹرولیم مصنوعات کی فروخت کی اجازت ہوگی، جس میں بینکاری، انشورنس اور شپنگ سے متعلق سہولتیں بھی شامل ہوں گی۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ ایرانی تیل پر عائد پابندیاں معطل کر دی گئی ہیں، سمندری ناکہ بندی ختم ہو چکی ہے اور کچھ منجمد اثاثے بھی جاری کر دیے گئے ہیں۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا کہ مذاکرات کے چار بنیادی اہداف حاصل کر لیے گئے ہیں اور اب بین الاقوامی انسپکٹرز ایران میں نگرانی کا عمل انجام دیں گے تاکہ مستقل امن معاہدے کی راہ ہموار ہو سکے۔