پاسدارانِ انقلاب ایران نے سعودی عرب میں موجود امریکی پائلٹوں اور لڑاکا طیاروں کے عملے کو نشانہ بنانے کے بڑے حملے کا دعویٰ کیا ہے۔
بریگیڈیئر جنرل سید ماجد موسوی کے مطابق الخرج کے علاقے میں مقیم 200 امریکی پائلٹوں اور عملے کی رہائش گاہوں کو میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اسی علاقے میں امریکا کا ایک ایواکس طیارہ بھی تباہ کیا گیا تھا، جبکہ حملے کے نتیجے میں کئی دیگر امریکی طیاروں کو بھی نقصان پہنچا۔
پیٹرولیم لیوی کا معاملہ آئی ایم ایف کیساتھ اٹھایا جائے، وزیراعظم کی وزارت خزانہ کو ہدایت
پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ کی جانب سے بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ علاقے میں بحری جہازوں، فوجی اجلاسوں، ریڈار سسٹمز اور ڈرون دفاعی نظام کو چار بڑے حملوں میں نشانہ بنایا گیا۔
متحدہ عرب امارات کے ساحلی علاقے میں امریکی میرینز کی ایک میٹنگ کو بھی ڈرونز کے ذریعے ہدف بنایا گیا، جو ایک فوجی اڈے سے باہر منعقد کی جا رہی تھی۔
بحرین کے مناما ایئرپورٹ کے قریب واقع فوجی اڈے کے باہر امریکی ففتھ فلیٹ کے ہاک اینٹی ڈرون نظام کو بھی ڈرون حملے میں تباہ کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
کویت میں احمد الجبر امریکی فوجی اڈے پر موجود دو ارلی وارننگ ریڈار نظام کو بھی ڈرونز کے ذریعے تباہ کرنے کا دعویٰ سامنے آیا ہے۔
وعدہ صادق چہارم آپریشن کی 88ویں لہر کے دوران اسرائیل کے ایک ایکسپریس ہاف اونگ کنٹینر جہاز کو بھی میزائلوں سے نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا گیا۔
پاسدارانِ انقلاب نے خبردار کیا ہے کہ اب خطے میں امریکا کی اٹھارہ بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے دفاتر کو بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے، کیونکہ ان کمپنیوں کی آرٹیفیشل انٹیلیجنس اور انٹرنیٹ ٹیکنالوجیز کو ایران میں حملوں کے اہداف کے تعین سے جوڑا جا رہا ہے۔