گلگت بلتستان میں 17.2 ارب روپے کے موسمیاتی لچک اور دیہی ترقی کے منصوبے کا معاہدہ
گلگت میں حکومت گلگت بلتستان، یورپی یونین، فرانسیسی ترقیاتی ایجنسی اے ایف ڈی اور آغا خان فاؤنڈیشن کے درمیان رورل ڈویلپمنٹ اینڈ کلائمیٹ ریزیلینس فار گلگت بلتستان منصوبے کے معاہدے پر دستخط ہوگئے۔ 54.24 ملین یورو یعنی تقریباً 17.2 ارب روپے مالیت کا یہ منصوبہ گلگت بلتستان کے تمام اضلاع میں موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے بچاؤ اور عوام کے معیار زندگی میں بہتری کے لیے شروع کیا گیا ہے۔
منصوبے کے تحت 216 واٹر سپلائی اسکیموں کے ذریعے صاف پانی کی فراہمی، مائیکرو ہائیڈل اور سولر سسٹمز کے ذریعے متبادل توانائی کے مواقع پیدا کیے جائیں گے، جن کی متوقع پیداواری صلاحیت 1200 سے 1300 کلوواٹ ہوگی۔ تمام 110 یونین کونسلوں میں قدرتی آفات سے متعلق خطرات اور حساسیت کا جائزہ لیا جائے گا، جبکہ 3 ہزار گھروں کو گرین ریٹروفٹنگ کے ذریعے ماحول دوست بنایا جائے گا اور 700 مکانات موسمیاتی خطرات سے محفوظ اور توانائی کی بچت کے اصولوں کے مطابق تعمیر کیے جائیں گے۔
حکام کے مطابق منصوبے سے تقریباً 43 ہزار 200 گھرانے مستفید ہوں گے، جن میں کم از کم 40 فیصد خواتین شامل ہوں گی۔ منصوبے کے تحت مقامی آبادی کی تربیت اور صلاحیتوں میں اضافے کے ساتھ روزگار کے مواقع، صاف پانی، بہتر سینیٹیشن، توانائی اور قدرتی آفات سے تحفظ کے اقدامات کیے جائیں گے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین نے کہا کہ منصوبے کا مقصد محض فنڈز خرچ کرنا یا اسکیمیں مکمل کرنا نہیں بلکہ عوام کو بنیادی سہولیات اور حقیقی معاشی فوائد ان کی دہلیز تک پہنچانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سولرائزیشن، سرکاری عمارتوں کو شمسی توانائی پر منتقل کرنے اور ریجنل گرڈ کی تعمیر کے ذریعے توانائی کے بحران پر قابو پانے کے لیے بھی اقدامات جاری ہیں۔
تقریب میں گلگت بلتستان انرجی ماسٹر پلان کے اہم نکات پر بھی بریفنگ دی گئی۔ حکام کے مطابق یورپی یونین کے تعاون سے جاری 31 ملین یورو کے انرجی پلس منصوبے کے تحت تیار کردہ روڈ میپ کا مقصد خطے میں موسمیاتی لحاظ سے مضبوط توانائی کا نظام تشکیل دینا اور متبادل توانائی کے ذرائع کو فروغ دینا ہے۔