امریکی اور ایرانی صدور نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر الیکٹرانک دستخط کیے، بطور ثالث اس کی توثیق کی ہے: وزیر اعظم
اسلام آباد: وزیر اعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف نے اعلان کیا ہے کہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت امریکا اور ایران کے درمیان باضابطہ طور پر الیکٹرانک دستخط ہو گئے ہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف نے ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ اس تاریخی مفاہمتی یادداشت پر دونوں ممالک کے معزز صدور نے دستخط کیے ہیں جبکہ بطور ثالث انہوں نے بھی اس کی توثیق کی ہے۔ ان کے مطابق یہ پیش رفت اس بات کی علامت ہے کہ دونوں فریقین تنازع کے حل کے لیے سفارتی راستہ اختیار کرنے میں سنجیدہ ہیں۔
ٹرمپ نے فرانس میں صدر میکرون کیساتھ عشائیے کے موقع پر ایران امریکا مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے
وزیر اعظم نے کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان یہ معاہدہ فوری طور پر نافذ العمل ہو چکا ہے۔ ابتدائی قدم کے طور پر ایران نے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور امریکا نے بحری ناکہ بندی ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت اور سفارتکاری کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کی کوششوں نے ایک ممکنہ تباہ کن تنازع کو روکنے میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے امریکی مذاکراتی ٹیم بشمول جے ڈی وینس، اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کی کوششوں کو بھی خراج تحسین پیش کیا۔
وزیراعظم نے ایران کی اعلیٰ قیادت آیت اللہ سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای اور صدر مسعود پزشکیان کی بصیرت اور دانشمندی کو سراہتے ہوئے ایرانی مذاکراتی ٹیم محمد باقر قالیباف، عباس عراقچی اور اسکندر مومنی کی خدمات کو بھی اہم قرار دیا۔
انہوں نے قطر کی قیادت کے ساتھ ساتھ سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے کردار کو بھی اس پیش رفت میں اہم اور تعمیری قرار دیا۔
وزیراعظم نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی کوششوں کو بھی خصوصی طور پر سراہا اور کہا کہ ان کی کاوشیں خطے میں امن و استحکام کے لیے نہایت اہم ثابت ہوئیں۔
آخر میں وزیراعظم نے کہا کہ یہ مفاہمتی یادداشت پورے خطے میں باہمی تفہیم، احترام اور مشترکہ خوشحالی کی مضبوط بنیاد ثابت ہوگی۔