لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس تنویر احمد شیخ نے محمد ارشد کی درخواست ضمانت مسترد کر دی۔
ملزم کے خلاف ایف آئی اے تھانہ اے ایچ ٹی سی راولپنڈی میں 2023 میں انسانی اسمگلنگ اور امیگریشن قوانین کی خلاف ورزی کا مقدمہ درج ہے۔
جسٹس منیب اختر نے قائم مقام چیف جسٹس آف پاکستان کا حلف اٹھا لیا
درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اپنایا کہ ملزم دسمبر 2024 سے جیل میں ہے، چالان تاخیر سے جمع ہوا اور ابھی تک کسی گواہ کا بیان ریکارڈ نہیں ہوا، اس لیے ضمانت دی جائے۔ تاہم سرکاری وکیل نے بتایا کہ ملزم اور اس کے ساتھیوں نے مدعی سے 25 لاکھ روپے لے کر اس کے بیٹے کو غیر قانونی طور پر بیرون ملک بھجوایا، جو لیبیا اور پھر اٹلی جاتے ہوئے کشتی حادثے میں لاپتہ ہو گیا۔
عدالت نے قرار دیا کہ اگرچہ طویل حراست کی بنیاد پر ضمانت دی جا سکتی ہے لیکن یہ خودکار حق نہیں، اور سنگین جرائم میں ملوث افراد کو رعایت نہیں دی جا سکتی۔
فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کا طریقہ واردات خطرناک ہے اور وہ سادہ لوح افراد کو بیرون ملک نوکری کا جھانسہ دے کر مالی نقصان پہنچاتا ہے۔ عدالت نے اسے "مالی قتل” قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے افراد ضمانت کے مستحق نہیں۔
عدالت نے ضمانت کی درخواست خارج کرتے ہوئے واضح کیا کہ آبزرویشنز عبوری نوعیت کی ہیں اور ٹرائل کورٹ پر اثر انداز نہیں ہوں گی۔