شیری رحمان نے متنازع آئی ٹی بل سے متعلق کہا ہے کہ قومی اسمبلی سے آنے والے بل میں متنازع شقیں برقرار تھیں، اسی وجہ سے اسے سینیٹ میں روک دیا گیا۔ ان کے مطابق شق 27 اے سمیت کئی سخت اور ناقابل قبول دفعات حذف نہ ہونے پر بل کو قائمہ کمیٹی کے سپرد کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں فائبرائزیشن کے خلاف نہیں ہیں، تاہم نجی ملکیت اور رائٹ آف وے پر کوئی سمجھوتہ قبول نہیں کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ بھاری جرمانوں اور انتظامیہ کو غیر معمولی اختیارات دینے کی مخالفت جاری رہے گی۔
فیفا ورلڈ کپ 2026: مصر کی نیوزی لینڈ کو ایک کے مقابلے میں تین گول سے شکست
شیری رحمان نے مزید کہا کہ بل پر جلد بازی کی ضرورت نہیں اور تمام تحفظات دور ہونے تک اس کی منظوری نہیں دی جائے گی۔ ان کے مطابق عوامی اعتماد کے لیے بل پر پبلک ہیئرنگ بھی ہونی چاہیے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ نجی ملکیت آئینی طور پر بنیادی حق ہے اور اس پر اثر انداز ہونے والی شقیں قابل قبول نہیں۔ قائمہ کمیٹی میں وہی ترامیم دوبارہ پیش کی جائیں گی اور ان کے مؤقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔